صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 619 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 619

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۱۹ ۸۶ - کتاب الحدود اعضاء میں سے ایک جاتا رہے اور تیر اسارا بدن جہنم میں نہ جائے۔کیا اسلامی تعلیم پر اعتراض کرنے والے مسیحی صاحبان اپنے ”خداوند مسیح کے اس سنہری ارشاد پر غور فرمائیں گے ؟ حق یہی ہے کہ اگر قوم اور سوسائٹی کی روح اور اس کے اخلاق کو بچانے کے لئے کسی ایک فرد کا ہاتھ کاٹنا پڑے تو یہ ہر گز مہنگا سودا نہیں ہے۔پس اسلامی سزاؤں پر اعتراض کرنا محض جھوٹے جذبات کا ابال ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔دراصل یہ وہی ہندوؤں والی ذہنیت ہے۔جو ایک گائے کے بدلے میں ہمیں انسانوں کی جان لینے میں دریغ نہیں کرتے۔فافهم و تدبر۔“ ( مضامین بشیر ، اسلام میں چور کی سزا، جلد ۲ صفحہ ۸۴۸) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”چوری کی سزا قطع ید۔۔۔یہ سز ا سخت بتائی جاتی ہے۔جواب: یہ سزا ہر چوری کی نہیں بلکہ اس کے لئے شرطیں ہیں۔اوّل: چوری اہم ہو۔دوم: بلا ضرورت ہو یعنی عادة - طعام کی چوری پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا نہ دی۔اسی طرح بھاگے ہوئے غلام کے متعلق ہے کہ ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے جس کی یہ وجہ ہے کہ وہ کما نہیں سکتا اور بھوک سے مجبور ہے۔سوم: تو بہ سے پہلے گرفتار ہو تب سزا ملے گی۔چہارم : مال چوری کر چکا ہو صرف کوشش سرقہ نہ ہو۔پنجم: اس کی چوری مشتبہ نہ ہو یعنی اشتراک مال کا مدعی نہ ہو، جن کے گھر سے چوری کرے وہ اس کے عزیز یا متعلق نہ ہوں جن پر اُس کا حق ہو ( بیت المال کی چوری پر حضرت عمر نے سزا نہ دی) مثلاً کسی مذہبی جنون کے ماتحت ہو۔جیسے بت پر الینا۔یہ مذہبی دیوانگی کہلائے گی اور حکومت تعزیری کارروائی کرے گی ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ دی جائے گی یا جوش انتقام میں چوری کرے جیسے جانوروں کی چوری کرتے ہیں یا جبر آچوری کرائی جائے۔ششم: وہ شخص نابالغ نہ ہو۔ہفتم: عقلمند ہو بہو قوف یا فاتر العقل نہ ہو۔ہشتم: اُس پر اصطلاح چور کا اطلاق ہو سکتا ہو۔چور سے مال واپس دلوایا جائے گا۔“ ( دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی، انوار العلوم جلد ۱۹ صفحه ۴۲۸) (متی، باب ۵ آیت ۳۰)