صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 618 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 618

صحیح البخاری جلد ۱۵ یح: MIA ۸۶ - کتاب الحدود وَالسَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: چوری کرنے والا اور چوری کرنے والی اُن دونوں کے ہاتھ کاٹ ڈالو۔زیر باب روایات میں ذکر ہے کہ چور کا ہاتھ تو ربع دینار کی چوری پر کاٹا جاتا یا ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جاتا جس کی قیمت تین درہم ہوتی اور روایت نمبر ۶۷۹۹ میں ذکر ہے کہ اللہ کی چور پر لعنت ہو وہ انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔وہ رسی چراتا ہے اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ چور دوسرے کا مال چوری کر کے جہاں حقوق العباد میں حق غصب کرنے کا مرتکب ہوتا ہے وہاں اس جرم سے وہ خدا تعالیٰ سے دوری کا سفر شروع کر دیتا ہے اور جرم کی یہ عادت بڑھتے بڑھتے اسے راندہ درگاہ بنادیتی ہے گویا با اعتبار ما یکون ( کل جو ہو گا۔) اس کا انجام بتایا گیا ہے۔جہاں تک مال مسروقہ کی مقدار کا تعلق ہے وہ چاہے انڈا ہو یاری ، چوری چوری ہی ہے۔پنجابی میں کہتے ہیں چوری لکھ دی ہو یا لکھ دی چوری ہی ہے۔اصل بات یہ ہے جرم کی ابتدا میں ہی اگر گرفت ہو جائے تو جرم کا سد باب آسان ہوتا ہے۔فارسی محاورہ ہے۔گربہ کشتن روز اول۔کہ بلی پہلے دن ہی مار دینی چاہیئے۔اس سے بھی یہی مراد ہے کہ جرم کو آغاز میں ہی ختم کر دینا چاہیئے ورنہ جرم کینسر کی طرح جب جڑیں پھیلائے گا تو پورا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: چند دن ہوئے میرا ایک نوٹ الفضل میں اسلامی سزاؤں کے فلسفہ کے متعلق شائع ہوا تھا۔اس میں اسلامی تعزیرات کے ماتحت چور کی سزا ( قطع ید ) کا بھی ذکر تھا اور میں نے بتایا تھا کہ اول تو اسلام نے ہر چوری کی سزا ہاتھ کاٹنے کی صورت میں مقرر نہیں کی بلکہ اس کے لئے بھی بعض خاص شرطیں اور حد بندیاں لگائی گئی ہیں اور دوسرے میں نے اس بات کو واضح کیا تھا کہ اسلام جھوٹے جذبات کا مذہب نہیں ہے کہ ایک چھوٹی چیز کو بچانے کے لئے بڑی چیز کو قربان کر دے بلکہ وہ بڑی چیز کو بچانے کے لئے چھوٹی چیز کو قربان کرتا ہے اور اگر ایک فرد کے عضو کو کاٹنے سے قوم کی روح اور سو سائٹی کے اخلاق کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے تو اسلام اس میں ہر گز تامل نہیں کرتا اور یہی اصلاح کا صحیح اور سچا فلسفہ ہے۔اس تعلق میں مجھے انجیل کا ایک حوالہ ملا ہے۔جو دوستوں کے فائدہ کے لئے درج ذیل کرتا ہوں۔اس میں بعینہ اس نظریہ کو پیش کیا گیا ہے۔جسے اسلام پیش کرتا ہے۔حضرت مسیح ناصری فرماتے ہیں: ” اگر تیرا داہنا ہاتھ تجھے ٹھوکر کھلائے تو تو اس کو کاٹ کر اپنے پاس سے پھینک دے کیونکہ تیرے لئے یہی بہتر ہے کہ تیرے