صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 37 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 37

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۷ ۸۰ - كتاب الدعوات حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ شعبه بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حکم أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيّ أَنَّ فَاطِمَةَ بن عتیبہ) سے ، حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے ، ابن ابی عَلَيْهِمَا السَّلَام شَكَتْ مَا تَلْقَى فِى لیلی نے حضرت علیؓ سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ يَدِهَا مِنَ الرَّحَى فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى عليهما السلام نے اس تکلیف کی شکایت کی جو چکی سے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَلَمْ اُن کے ہاتھ میں ہوتی۔وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تَجِدْهُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَلَمَّا پاس آئیں کہ آپ سے کوئی خادم مانگیں تو انہوں جَاءَ أَخْبَرَتْهُ قَالَ فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا نے آپ کو گھر میں) نہ پایا تو حضرت عائشہ سے اس کا ذکر کیا۔جب آپ آئے تو حضرت عائشہ نے آپ کو بتایا۔(حضرت علی) کہتے تھے: (یہ سن کر) آپ ہمارے پاس آئے اور ہم اپنے بستروں پر مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْتُ أَقُومُ فَقَالَ مَكَانَكِ فَجَلَسَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ أَلَا لیٹ گئے تھے۔میں اٹھنے لگا تو آپ نے فرمایا: اپنی أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَّكُمَا مِنْ جگہ رہو اور آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے یہاں حَادِمِ إِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا - أَوْ تک کہ میں نے اپنے سینے پر آپ کے پاؤں کی أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا - فَكَتِرَا أَرْبَعًا ٹھنڈک محسوس کی۔آپ نے فرمایا: کیا میں اس وَثَلَاثِينَ وَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ بات کا پتہ نہ دوں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَهَذَا خَيْرٌ ہو ؟ جب تم اپنے بچھونے پر آرام کرو یا ( فرمایا :) لَّكُمَا مِنْ خَادِمٍ وَعَنْ شُعْبَةَ عَنْ جب تم اپنے بستروں پر لیٹ جاؤ تو تم ۳۴ بار اللہ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ التَّسْبِيحُ اكبر ، ۳۳ بار سبحان اللہ اور ۳۳ بار الحمد للہ کہو تو یہ تم دونوں کے لئے ایک خادم سے بہتر ہو گا۔اور شعبہ سے مروی ہے کہ انہوں نے خالد (حذاء) أَرْبَعْ وَثَلَاثُونَ۔سے، خالد نے ابن سیرین سے روایت کی۔انہوں أطرافه ۳۱۱۳، 37۰۰، 5361، ٥٣٦٢۔نے کہا: سبحان اللہ ۳۴ بار ہے۔تشريح : التَّكْبِيرُ وَالتَّسْبِيحُ عِندَ الْمَنَام : سوتے وقت اللہ اکبر اور سیان اللہ کہنا۔زیر باب روایت میں یہ ذکر ہے کہ حضرت فاطمہ نے اپنی مشقت کم کرنے اور اپنے کاموں میں مدد کے