صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 611
۸۶ - کتاب الحدود صحیح البخاری جلد ۱۵ اصلاح کو مد نظر رکھے تو اس کو بدلہ دینا اللہ کے ذمے ہوتا ہے۔اور دوسری جگہ فرمایا إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسَانِ وَايْتَانِى ذِي الْقُرْبى (النحل: (٩١) اللہ یقیناً عدل کا اور احسان کا اور (غیر رشتہ داروں کو بھی) قرابت والے (مشخص) کی طرح ( جاننے اور اسی طرح مدد دینے کا حکم دیتا ہے۔پس پہلا قدم اگر اٹھالیا جائے تو پھر دیگر اعضاء کو کاٹنے کی نوبت نہیں آتی بلکہ معاشرہ حسن و احسان کے ماحول میں اپنے اعمال کی تحسین کرتا جاتا ہے اور عدل سے بڑھ کر احسان اور پھر ایتاء ذی القربی کا درجہ آتا ہے جہاں ایک دوسرے کے لیے ایثار اور قربانی کی روح وہ منتظر پیش کرتی ہے جو غزوہ پیر موک میں حضرت حارث بن ہشام نے اپنے مسلمان بھائی حضرت عکرمہ اور حضرت عیاش کو پیاسا دیکھ کر خود پانی پینے کی بجائے اُنہیں پانی پلانے کا اشارہ کیا اور یوں ایثار کرتے ہوئے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔(المعجم الکبیر للطبرانی، باب الحاء ، الحارث بن هشام، جزء۳ صفحه ۲۵۹) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحمد أَنَّ أَسَامَةَ كَلَّمَ۔۔في امرأة: اس عورت کا نام فاطمہ بنت اسود بن عبد الاسد بیان کیا جاتا ہے۔فاطمہ کا باپ اسد جنگ بدر میں قتل ہوا۔یہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ کے پہلے شوہر جلیل القدر صحابی حضرت ابوسلمہ بن عبد الاسد کی بھتیجی تھی۔جب اس کی چوری ثابت ہوئی تو پہلے اس کے خاندان نے چالیس اوقیہ چاندی بطور فدیہ دینے کی پیشکش کی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسترد فرما دیا اور فرمایا اس پر حد قائم کرنا ہی مناسب ہے۔پھر اس نے حضرت عمر بن اُم سلمہ کی پناہ لی اور ان سے سفارش کی اپیل کی۔اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ یہ میری پھوپھی ہے اسے معاف فرما دیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی سفارش بھی مسترد فرما دی۔آخر انہوں نے حضرت اسامہ کا انتخاب کیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی سفارش قبول نہ فرمائی بلکہ حضرت بلال سے فرمایا اُٹھو اور اس کا ہاتھ کاٹ دو۔اُنہوں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔اُس نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے لیے توبہ کا دروازہ بند تو نہیں ہو گیا؟ فرمایا آج تم یوں پاک ہو چکی ہو گویا آج ہی تمہاری ماں نے تمہیں جنا ہے۔اُس نے توبہ کی اور بنو سلیم کے ایک آدمی سے نکاح کر لیا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں اس کے بعد وہ میرے پاس آتی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی حاجت پیش کرتی۔(فتح الباری، جزء ۱۲ صفحه ۱۱۶،۱۱۵،۱۱۳،۱۰۸) وو حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ یہ بات بالکل پسند نہیں کرتا کہ جو خائن ہے، چور ہے ، غلط کام کرنے والا ہے، اس کی حمایت کی جائے چاہے جتنے مرضی اونچے خاندان سے ہو، جتنے مرضی اونچے مقام کا ہو۔اور قطع نظر اس کے کہ کس کی اولاد ہے اگر وہ خیانت کا مرتکب ہوا ہے تو اس کو سزاملنی چاہئے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہمیشہ