صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 612
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۱۲ ۸۶ - کتاب الحدود پیش نظر رکھنا چاہیئے کیونکہ اگر تم نے ایسے لوگوں سے رعایت کی تو نہ صرف تم اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والے ہو گے بلکہ اپنے بھائیوں کو بھی نقصان پہنچار ہے ہوگے کیونکہ ایسے شخص کو جب ایک دفعہ معاف کر دیا جائے تو اس کو جرات پیدا ہوتی ہے اور یہی عموماً سامنے آتا ہے کہ پھر ایسے لوگ دھو کے دیتے رہتے ہیں۔اگر تمہارا بھائی، بیٹا یا اور عزیز رشتہ دار ہے تو اس کی خیانتوں کی وجہ سے لوگوں کے نقصان پورے کرتے رہو گے کیونکہ قریبی عزیز کو سزا سے بچانے کے لئے اور اپنی عزت کو بچانے کے لئے بعض دفعہ جن کو احساس ہو وہ نقصان پورے کرتے ہیں۔بے چاروں کو قربانی دینی پڑتی ہے۔تو جب اس طرح جرمانے بھرتے رہیں گے تو پھر اپنا بھی ساتھ نقصان کر رہے ہوں گے۔تو فرمایا کہ ایسے سخت خیانت کرنے والے گنہگار کو اللہ پسند نہیں کرتا اس لئے تم بھی اس کو چھوڑ دو، اس کو سزا لینے دو۔ہو سکتا ہے کہ اس دفعہ یہ سزا اس کی اصلاح کا باعث ہو جائے۔لیکن اگر ایسے لوگوں کی حمایت کی تو ایسا شخص تمہارے ساتھ جماعت کی بدنامی کا باعث بھی بنتا رہے گا۔“ ( خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۶ / فروری ۲۰۰۴ء جلد ۲ صفحه ۱۰۷) بَاب ۱۲ : كَرَاهِيَةُ الشَّفَاعَةِ فِي الْحَدِ إِذَا رُفِعَ إِلَى السُّلْطَانِ مقدمہ جب حاکم کے سامنے پیش کیا جائے تو سزا کے متعلق سفارش کرنے کو نا پسند کرنا ٦٧٨٨: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ :۶۷۸۸ سعید بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ لیث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ قُرَيْشًا أَهَمَّتْهُمُ الْمَرْأَةُ الْمَحْزُومِيَّةُ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ اُس مخزومی عورت الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيْهَا نے قریش کو فکر میں ڈال دیا تھا، جس نے چوری رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی تھی تو انہوں نے کہا: اُسامہ کے سوا جو رسول وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ حِبُّ الله صلى اللہ علیہ وسلم کا پیارا ہے رسول اللہ صلی اللہ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ علیہ وسلم سے اس بارے میں کون بات کرے گا اور