صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 610
صحیح البخاری جلد ۱۵ ٦١٠ ۸۶ - كتاب الحدود بَاب ۱۱ : إِقَامَةُ الْحُدُودِ عَلَى الشَّرِيفِ وَالْوَضِيعِ اعلیٰ اور ادنی پر سزاؤں کا نافذ کرنا ٦٧٨٧ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۶۷۸۷ : ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ نے اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أُسَامَةَ كَلَّمَ النَّبِيَّ نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةِ کی کہ حضرت اسامہ بن زید) نے نبی صلی اللہ فَقَالَ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ علیہ وسلم سے ایک عورت کے متعلق سفارش کی۔ أَنَّهُمْ كَانُوا يُقِيمُونَ الْحَدَّ عَلَى آپؐ نے فرمایا: تم سے پہلے جو تھے وہ اسی لئے الْوَضِيعِ وَيَتْرُكُونَ عَلَى الشَّرِيفِ ہلاک ہوئے کہ وہ ادنی پر تو سزا کو جاری کیا کرتے تھے اور اعلیٰ کو چھوڑ دیتے تھے اور اسی ذات کی وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ فَاطِمَةُ فَعَلَتْ ذَلِكَ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ۔ قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ یہ کرتی تو میں ضرور اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالتا۔ أطرافه: ٢٦٤٨، ٣٤٧٥ ، ۳۷۳۲، ۳۷۳۳، ٤٣٠٤، ٦٧٨٨ ، ٦٨٠٠- تشريح : إِقَامَةُ الْحُدُودِ عَلَى الشَّرِيفِ وَالْوَضِيع : اعلیٰ اور ادنی پر سزاؤں کا نافذ کرنا۔ اسلام کا نظام عدل جامع اور بہت اعلیٰ ہے اس کا پہلا قدم یہ ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں مجرم مجرم ہی ہے چاہے اس کی حیثیت کوئی بھی ہو ۔ قریبی رشتہ دار ہو، بڑے خاندان سے تعلق رکھتا ہو، اس کے ساتھ مفادات وابستہ ہوں اور اسے سزادینے سے خاندانی، معاشی، سیاسی یا بین الاقوامی تعلقات کو نقصان پہنچتا ہو۔ بادی النظر میں اتنے بڑے بڑے نقصانات سے بچنے کے لیے بہتر ہے اس کو سزا نہ دی جائے مگر یہ سوچ محدود اور ناعاقبت اندیشی پر مبنی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بلا امتیاز سزا سارے معاشرے کو زندگی دینے والی ہے۔ جیسے فرمایا ؤ لكم في الْقِصَاصِ حَيُوةٌ يَأُولِي الْأَلْبَابِ (البقرة: ۱۸۰) تمہارے لئے (اس) بدلہ لینے میں زندگی کا سامان) ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ایک انگلی یا بازو یا ٹانگ جو زہر آلود ہو گیا ہو اس کو نہ کاٹنا باقی جسم پر شفقت اور رحم نہیں بلکہ ظلم ہے۔ اگر اس عضو بیمار کو نہ کاٹا جائے اور وہ زہر سارے جسم میں پھیل جائے اور پورا انسانی وجود موت اور تباہی کا شکار ہو جائے تو ایک عضو کی قربانی ظلم نہیں بلکہ احسان ہے اس لیے اسلام ایسے ننگ انسانیت ایک شخص کی سزا کو باقی تمام انسانوں کی اصلاح کے لیے ضروری قرار دیتا ہے مگر اسلامی عدل ایک قدم آگے بڑھاتا ہے فرماتا ہے : جَزَاؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری: (۴۱) بدی کا بدلہ اتنی ہی بدی ہوتی ہے اور جو معاف کرے اور