صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 36
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۰ - كتاب الدعوات میں قائم رہنے والا جس سے کسی وجود کی طاقتوں میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ آئے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کائنات کا جو نقشہ کھینچ رہے ہیں اس میں دو ہی باتیں بیان فرماتے ہیں ، آگے بڑھانے والا اور پیچھے ہٹانے والا اور یہی ہر چیز کی حقیقت ہے۔کوئی چیز کسی مقام پر جامد نہیں ہے۔یا آگے بڑھ رہی ہے یا پیچھے ہٹ رہی ہے۔اسی لئے۔وہاں یہ عرض کیا تھا اپنے رب سے کہ اس نور سے میرا تعلق کبھی نہ ٹوٹے کیونکہ ٹوٹا تو پھر وہ سلسلہ ٹوٹتا چلا جائے گا۔یا انسان آگے بڑھ سکتا ہے یا پیچھے ہٹ سکتا ہے۔یہ سب کچھ کہنے کے بعد، یہ سب مناجات کرنے کے بعد آپ عرض کرتے ہیں تیرے سوا کوئی معبود نہیں لا الہ الا انت اور توحید کی یہ ساری تصویر ہے جو کھینچی جا رہی ہے۔اسی لئے مَثَلُ نُورِهِ ( النور : ۳۶) فرمایا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام صفات میں اس حد تک آگے بڑھے کہ ہر اس صفت کو جو انسان کی تشکیل میں خدا تعالیٰ نے ازل سے رکھی ہوئی تھی مگر جس کی طرف باشعور بڑھنا مقدر فرما دیا تھا۔ہر ایسی صفت کو باشعور طور پر آگے بڑھ کر اپنا لیا اور ہمیشہ کے لئے اس میں اپنے وجود کو ضم کر دیا اور اسے اپنے وجود پر طاری کر لیا پھر آپ وہ نور بنتے ہیں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَثَلُ نُورِہ مگر اس کے باوجود وہ نور، اللہ نہیں ہے بلکہ مخلوق ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نور کو مخلوق ہی قرار دیا ہے۔“ خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرموده ۸ دسمبر ۱۹۹۵، جلد ۱۴ صفحه ۹۲۰ - ۹۲۳) روایت نمبر ۶۳۱۶ کے آخر پر ہے: قَالَ كُرَيْبٌ وَسَبْعُ فِي التَّابُوتِ: کریب نے کہا: جسم میں سات چیزیں ہیں (جن کو منور کرنے کی آپ نے دعا کی) تابوت سے مراد انسان کا بدن ہے جو روح کے لئے بمنزلہ تابوت کے ہے۔نیز جسم کے اعضاء کا ذکر کیا کہ اس سے مراد اعصاب، گوشت ، خون ، بال اور جلد ہے۔وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ: اور انہوں نے دو اور چیزوں کا بھی ذکر کیا۔علامہ کرمانی لکھتے ہیں : ان دو سے مراد چربی اور ہڈی ہے۔بعض نے کہا: ان سے مراد ہڈی اور قبر ہے اور ایک قول یہ ہے کہ ان دو خصلتوں سے مراد زبان اور نفس ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۲۸۶) بَاب ١١ : التَّكْبِيرُ وَالتَّسْبِيحُ عِنْدَ الْمَنَامِ سوتے وقت اللہ اکبر اور سبحان اللہ کہنا ٦٣١٨ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۶۳۱۸ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ