صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 35
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۵ ۸۰ - كتاب الدعوات اور کہتے ہیں اس پر بخشش کی چادر ڈال دے اور جو آئندہ ہونے والا ہے اس کا کوئی حال معلوم نہیں۔پس اللہ کے علم میں اللہ کے نور میں یہ ساری باتیں موجود ہیں۔جو پہلی تھیں وہ بھی اور جو آئندہ آنے والی تھیں، وہ بھی۔فرماتے ہیں اور جو میں نے چھپایا اور جو میں نے ظاہر کیا اس کے متعلق بھی میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں۔فرمایا اسے بھی بخش دے۔اب یہ بھی عجیب مضمون ہے ، چھپایا اور ظاہر کیا۔حقیقت میں اللہ کے سامنے جو نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ۳۶) ہے کوئی چیز چھپ سکتی ہی نہیں۔نا ممکن ہے کہ اس نور سے کوئی چیز چھپ جائے جس کا پردہ نور ہے جو اس پر دہ نور کے پیچھے ایک مخفی نور ہے جس تک انسان یا کسی مخلوق کے تصور کی رسائی ممکن نہیں ہے۔اس سے کوئی چیز چھپ ہی نہیں سکی اور وہ ہر چیز سے چھپا ہوا ہے یعنی اپنی نور کی انتہائی صورت میں مقام تنزہ پر واقع ہے۔اس عرش پر واقع ہے جو مخلوق سے پر لی طرف ایسے مقام پر ہے یعنی اپنے مرتبے کے لحاظ سے اور اپنی لطافت کے لحاظ سے کہ وہاں رسائی ممکن نہیں ہے۔سب سے بڑی رسائی،سب سے اُونچی رسائی، سب سے اعلیٰ اور ارفع رسائی معراج کے وقت حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیب ہوئی مگر ایک مقام پر جا کر وہاں ٹھہر گئے۔اس سے آگے توحید کامل کا وہ مقام ہے جس میں مخلوق کو خواہ وہ کیسی ہی اعلیٰ درجے کی ہو دخل نہیں ہے اور اسی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقام تنزہ کا عرش فرمایا ہے۔فرمایا: عرش کی تو بہت سی قسمیں ہیں۔آپ بیان بھی فرماتے ہیں لیکن ایک ہے مقام تنزہ کا عرش اس میں صرف خدا اور خدا کی ذات رہ جاتی ہے اور کچھ نہیں پہنچتا۔تو خدا تعالیٰ کی ذات سے وہ چونکہ ہر جگہ ہے ، کوئی چیز مخفی نہیں اور بہت سے اس کے ایسے مراتب اور مقامات ہیں جو حقیقت میں ان گنت ہیں اور ان کا کوئی کنارہ نہیں ہے جس تک مخلوق کی پہنچ نہیں ہو سکتی خواہ وہ کیسا ہی ترقی کر لے تو اس لئے اس سے تو کچھ چھپ نہیں سکتا۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو میں نے چھپایا اور جو میں نے ظاہر کیا اسے بھی بخش دے۔تو ہی آگے بڑھانے والا ہے اور تو ہی پیچھے ہٹانے والا ہے۔پس قیام کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی چیز کو ایک ہی جگہ ٹھہرائے رکھا جائے۔قیام کا یہ اگر مطلب ہے تو وہ غلط سمجھتے ہیں کیونکہ قیام سے مراد جمود نہیں ہے۔قیام سے مراد اپنی طاقتوں