صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 34
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۴ ۸۰ - كتاب الدعوات تعلق ہے وہ جواب آچکا ہے کہ جو کچھ تو نے کیا، جو کچھ آئندہ کرے گا سب خدا کے نزدیک قبولیت کی جگہ پاچکا ہے اور مغفرت کی چادر نے ہر چیز کو ڈھانپ رکھا ہے۔۔۔اس پہلو سے یہ نمونے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبودیت کے اور عبدیت کے کہ اپنے آپ کو مٹاتے چلے جاتے ہیں، کچھ بھی نہیں چھوڑتے۔فرماتے ہیں جو کچھ میں نے کیا تو جانتا ہے۔جہاں تک میں جانتا ہوں میں سمجھتا ہوں مجھے اس کی بخشش طلب کرنی چاہیئے۔یعنی یہ نہیں فرماتے کہ جو کچھ میں نے کیا اچھی باتیں کی ہیں ان کی بھی جزا دے جو کمزوریاں کہیں رہ گئیں ہیں ان کو بخش دے بلکہ ساری زندگی کا ہر لمحہ بخشش کی چادر کے نیچے لانا چاہتے ہیں اور کسی ایک لمحے پر بھی خودسری نہیں، خود اعتمادی اس رنگ کی نہیں کہ گویا اس پر آدمی تکبر سے نظر ڈال سکے کہ وہ تو ٹھیک تھا۔اب دیکھیں مقام نبوت اور دیگر مقامات کے فرق کیسے ہوتے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے آخری لمحات میں یہ عرض کی تھی ولا علی اور مفسرین لکھتے ہیں کہ مراد یہ تھی کہ میں نے بہت سے نیک اعمال بھی کیے ہیں اور میں یہ نہیں کہتا کہ ان نیک اعمال کے بدلے مجھے بخش دے کیونکہ جو مجھ سے کمزوریاں سرزد ہو گئی ہیں ان کے مقابل پر ان کو لکھ کر برابر کر دے۔یہ ایک بہت ہی عارفانہ دعا تھی۔مگر اب دیکھیں آنحضرت صلی اللہ نام کی التجا جو ہر رات کو اُٹھ کر خدا کے حضور کیا کرتے تھے ، اپنی ساری زندگی کی نیکیوں کو کلیۂ مٹا ہوا دیکھ رہے ہیں اور یہ عرض کر رہے ہیں کہ ان پر اپنی بخشش کی چادر ڈال دے۔میں نہیں جانتا میں نے کیا کیا ہے اور جس نے دیکھا ہو کہ ساری زندگی نیکی میں گزری ہے اور غلامی کی یہ شان ہے کہ اسے دیکھتے ہوئے بھی یہ جانتا ہے کہ محض اللہ کے فضل سے یہ توفیق ملی تھی اس لئے جو لغزش ہوئی ہے وہ میری کمزوری سے ہوئی ہے۔یہ نکتہ ہے جو عارفانہ نکتہ ہے، محض ایک فلسفیانہ عجز نہیں ہے بلکہ عارفانہ عجز ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھ کر جانتے تھے کہ جو کچھ عطا ہوا ہے اللہ کے فضل سے عطا ہوا ہے پھر اسے اپنے کھاتے میں اپنی طرف کس طرح منسوب کر دیں۔مگر اس فضل کے مقابل پر شکر میں کوئی کوتاہی ہو گئی ہو ، اس فضل کے بہترین اور سب سے اعلیٰ درجے کے استعمال میں کمزوری ہو گئی ہو تو وہ اپنی طرف منسوب فرمارہے ہیں