صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 580 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 580

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۸۰ ۸۵- كتاب الفرائض طور پر اپنے غلام کو آزاد کر دے تو اس غلام کا بھی فرض ہے کہ اس احسان مندی کو احسان فراموشی میں نہ بدلے بلکہ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن: ۶۱) کیا احسان کی جزا احسان کے سوا کچھ اور بھی ہو سکتی ہے ؟ احسان کا بدلہ احسان شناسی اور احسان مندی سے دے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: الدين النَّصِيحَةُ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَنْ ؟ قَالَ لِلهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِأَئِمَّةِ المُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ کہ دین خیر خواہی کا نام ہے۔ صحابہ نے پوچھا کس کے لیے؟ فرمایا: اللہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے ائمہ اور سب مسلمانوں کے لیے۔ آقا اور غلام کے تعلق کو اسلام حقیقی رشتوں کی طرح قرار دے کر باہمی محبت واخوت کے رشتہ کو مضبوط کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس لیے ایسے محسنوں سے رشتہ توڑ کر اپنے آپ کو کسی اور سے منسوب کرنا ایسا ہی قرار دیا گیا ہے جیسا کوئی اپنے باپ کو چھوڑ کر اپنے آپ کو کسی اور کی طرف منسوب کرے۔ اسی تعلق کو قائم رکھنے کے لیے آزاد کردہ غلام کا ورثہ اس کے نسبی وارثوں کے نہ ہونے کی صورت میں آزاد کرنے والے کو دینے کا حکم ہے اور اس ولاء ( ورثہ) کو بیچنے یا ہبہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (روایت نمبر ۶۷۵۶) باب ۲۲ : إِذَا أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ اگر کوئی کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہو تو کیا وہ اس کا وارث ہو سکتا ہے یا نہیں؟) وَكَانَ الْحَسَنُ لَا يَرَى لَهُ وِلَايَةً۔ وَقَالَ حسن بصری) اس کے لئے کوئی حق وراثت نہیں النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءُ سمجھتے تھے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حق لِمَنْ أَعْتَقَ۔ وَيُذْكَرُ عَنْ تَمِيمِ الدَّارِيِّ وراثت اسی کا ہوتا ہے جس نے آزاد کیا اور حضرت رَفَعَهُ قَالَ هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ تمیم داری کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے الله وَمَمَاتِهِ وَاخْتَلَفُوا فِي صِحَّةِ هَذَا اس حدیث کو آنحضرت ملی ایام تک پہنچایا، رت علیوم آپ نے فرمایا کہ وہ اس کی زندگی اور موت دونوں حالتوں الْخَبَرِ۔ میں سب لوگوں سے زیادہ اس پر حق رکھتا ہے اور لوگوں نے اس خبر کی صحت کے متعلق اختلاف کیا۔ ٦٧٥٧ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ۶۷۵۷: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ مَّالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ انہوں نے مالک سے ، مالک نے نافع سے ، نافع نے عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا فَقَالَ أَهْلُهَا نَبِيعُكِهَا اُم المؤمنین چاہتی تھیں کہ ایک لونڈی خرید کر اس (سنن الترمذى، أَبْوَابُ البِرِّ وَالصَّلَةِ ، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّصِيحَةِ)