صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 579
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۷۹ ۸۵ - كتاب الفرائض حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ اونٹوں کے نصاب کے متعلق کچھ احکام ہیں۔ کہتے وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ تھے : اور اس میں یہ بھی تھا کہ مدینہ غیر سے لے کر مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ ثور تک حرم ہے۔ جس نے مدینہ میں کوئی بدعت وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ کا کام کیا یا بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور ملائکہ اور لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ تمام لوگوں کی لعنت ہو گی۔ قیامت کے دن اس جس راہ و لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا سے نہ توبہ قبول ہوگی اور نہ ہی اس کا فدیہ اور ج عَدْلٌ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةً يَسْعَی نے اپنے مالکوں کے حکم کے سواکسی قوم سے ر بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَغْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ رسم رکھی تو اس پربھی اللہ اور ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی۔ قیامت کے دن اس کی نہ توبہ قبول ر لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ہوگی اور نہ فدیہ اور تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَّلَا ہے۔ ان میں سے ادنیٰ سے ادنی بھی امان دے عَدْلٌ۔ سکتا ہے۔ اس لئے جس نے کسی مسلمان کے ذمہ کو توڑا تو اس پر بھی اللہ اور ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی۔ قیامت کے دن نہ اس سے توبہ قبول ہو گی اور نہ فدیہ۔ أطرافه: ۱۱۱، ۱۸۷۰، ۳۰۴۷، ۳۱۷۲، ۳۱۷۹ ، ۶۹۰۳، ٦٩١٥ ، ٧٣٠٠۔ ٦٧٥٦ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۶۷۵۶: ابو و نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ (توری) نے ہمیں ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن د ربن دینار در عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى النَّبِيُّ سے ، عبد اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَعَنْ هِبَتِهِ۔ طرفه ٢٥٣٥ - آزاد کردہ غلام کے حق وراثت کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ تشریح : إِنَّهُ مَنْ تَبَرَأَ مِنْ مَوَالِيه: اس شخص کا گناہ جواپنے مالکوں سے بیزار ہو کر الگ ہو جائے۔ اس باب میں اس تعلق کے ایفاء کا ذکر ہے جو آقا اور غلام کے مابین ہوتا ہے نیز ایک آقا احسان کے