صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 578
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۷۸ ۸۵ - كتاب الفرائض الْأَسْوَدِ مُنْقَطِعْ وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَأَيْتُهُ منقطع ہے اور حضرت ابن عباس کا یہ قول کہ میں عَبْدًا أَصَحٌ۔ صفحه نے اس کو دیکھا کہ وہ غلام تھا، زیادہ صحیح ہے۔ أطرافه: ٤٥٦ ، ١٤٩٣، ٢١٥٥، ٢١٦٨، ٢٥٣٦، ٢٥٦٠، ٢٥٦١، ٢٥٦٣، ٢٥٦٤، ،٥، ٥٢٨٤۲۷۹ ،۵۰۹۷ ،۲۷۳۵ ،۲۷۲۹ ،۲۷۲۶ ،۲۷۱۷ ،۲۵۷۸ ،٢٥٦٥ -٥٤٣٠ ، ٦٧١٧، ٦٧٥١، ٦٧٥٨، ٦٧٦٠ تشریح : ميراثُ السَّائِبَةِ: سانبہ کا حق وراثت۔ یہاں سائبہ سے مراد وہ جانور نہیں جو زمانہ جاہلیت میں سائبہ بنائے جاتے تھے ، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سورۃ المائدۃ آیت ۱۰۴ میں کیا ہے بلکہ یہاں سائبہ سے مراد وہ غلام ہے جس کو اس شرط پر آزاد کیا جائے کہ اس کی ولاء (ورش) کسی کے لیے نہیں ہوگا۔ ولاء کا لفظ جو غلام کے ورثہ کے لیے استعمال ہوتا ہے اس کے لغوی معنے نصرت و محبت کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں اس سے مراد وہ تعلق ہے جو غلام اور اس کے آزاد کرنے والے کے درمیان قائم ہوتا ہے۔ اگر آزاد کردہ غلام مر جائے اور اس کا کوئی نسبی وارث نہ ہو تو اس کا ترکہ آزاد کرنے والے کو ملتا ہے اور اگر آزاد کرنے والا مر جائے اور اس کا کوئی نسبی وارث نہ ہو تو اس کا ترکہ اس آزاد کردہ غلام کو ملتا ہے۔ سائبہ اس کے برعکس ہے یعنی اس کا ترکہ کسی کو بھی نہیں ملے گا بلکہ بیت المال میں جائے گا۔ اسلام غلاموں کے ساتھ تعلق کو یہ عزت و توقیر دیتا ہے کہ اگر اس کا کوئی نسبی وارث نہ ہو تو آزاد کرنے والا اس کا وارث بنے گا۔ اس سے غلاموں کی آزادی کی اہمیت اور اسلام نے اس عمل سے غلاموں کو جو عزت دی ہے اس کا پتہ چلتا ہے۔ باب ۲۱ : إِثْمُ مَنْ تَبَرَّأَ مِنْ مَّوَالِيهِ اس شخص کا گناہ جو اپنے مالکوں سے بیزار ہو کر الگ ہو جائے ٦٧٥٥ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ۶۷۵۵ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جزیر جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ بن عبد الحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہے، اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے اپنے مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابُ اللهِ باپ یزید بن تیمی) سے روایت یزید بن شریک بن طارق تیمی) غَيْرَ هَذِهِ الصَّحِيفَةِ قَالَ فَأَخْرَجَهَا کی۔ انہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: اللہ کی کتاب کے سوا ہمارے پاس کوئی ایسی فَإِذَا فِيهَا أَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ کتاب نہیں جس کو ہم پڑھتے ہوں مگر یہ ایک ورق وَأَسْنَانِ الْإِبِلِ قَالَ وَفِيهَا الْمَدِينَةُ حَرَمٌ ہے۔ وہ کہتے تھے: یہ کہہ کر انہوں نے اس ورقہ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا کو نکالا تو کیا دیکھا کہ اس میں زخموں کے متعلق اور