صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 575 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 575

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۷۵ ۸۵- کتاب الفرائض اسلام میں اسے نہایت پسندیدہ سمجھا گیا ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ عَن آبی هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةُ حَقٌّ عَلَى اللهِ عَوْنُهُمْ الْمُكَاتِبُ الَّذِى يُرِيدُ الْآدَاءَ وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعِفَافُ وَالْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللہ۔یعنی "ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نصرت کو اپنے اوپر ایک حق کے طور پر قرار دے لیا ہے۔اول مکاتب غلام جو اپنی مکاتبت کی رقم کی ادائیگی کی فکر میں ہے۔دوسرے وہ شادی کرنے والا شخص جو اپنی عفت کے بچانے کی نیت رکھتا ہے اور تیسرے مجاہد فی سبیل اللہ۔“ حصہ غلاموں کی آزادی کی تحریک صرف افراد تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اسلامی سلطنت کا بھی یہ فرض قرار دیا گیا تھا کہ وہ قومی بیت المال میں سے ایک معتد غلاموں کے آزاد کرانے میں صرف کرے۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے: اِنَّمَا الصَّدَقَتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَكِينِ وَ الْعَمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُم وَ فِي الرِّقَابِ وَالْرِمِينَ وَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ ابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةٌ مِّنَ الله (التوبة: ۶۰) یعنی زکوۃ کے اموال فقراء اور مساکین پر خرچ ہونے چاہئیں اور محکمہ زکوۃ کے عاملین پر اور کمزور نو مسلموں پر اور غلاموں کے آزاد کرنے میں اور مقروضوں کے قرض کی ادائیگی میں اور اشاعت دین کے لئے اور مسافروں کو آرام پہنچانے کے لئے۔یہ ایک فرض ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا۔“ اس آیت کی رو سے اسلامی سلطنت کا فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ زکوۃ کے محاصل میں سے غلاموں کی آزادی پر روپیہ خرچ کرے۔آزاد شدہ غلاموں کے متعلق تعلیم غلاموں کی آزادی کے اس انتظام میں اس بات کو بھی مد نظر رکھا گیا تھا کہ آزاد ہونے کے بعد بھی آزاد شدہ غلام بالکل بے سہارا اور بے یار و مددگار نہ رہیں چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا انتظام فرمایا تھا کہ مالک اور آزاد شدہ غلام کے درمیان ایک قسم کا رشتہ اخوت مستقل طور پر قائم رہے۔چنانچہ آپ کے حکم کے ماتحت مالک اور