صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 576
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۷۶ ۸۵ - كتاب الفرائض آزاد شدہ غلام ایک دوسرے کے ”مولیٰ“ یعنی دوست اور مددگار کہلاتے تھے تاکہ آقا اور غلام دونوں کے دلوں میں یہ احساس رہے کہ ہم ایک دوسرے کے دوست ہیں اور بوقت ضرورت ہم نے ایک دوسرے کے کام آنا ہے ، اسی مصلحت کے ماتحت آزاد شدہ غلام اور مالک کو ایک دوسرے کے متعلق حق موروثیت بھی عطا کیا گیا تھا یعنی اگر غلام بے وارث مرتا تھا تو اس کا ترکہ اس کے سابقہ آقا کو جاتا تھا اور اگر مالک بے وارث رہ جاتا تھا تو اس کا ورثہ اس کے آزاد کردہ غلام کو ملتا تھا۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے: عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْوِلَاءَ لِمَنِ اعْتَقَ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَدَعَ وَارِنَا إِلَّا عَبْدًا هُوَ اعْتَقَهُ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ۔ یعنی عائشہ روایت کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی آزاد شدہ غلام لاوارث مر جاوے تو اس کا ترکہ اس کے سابق مالک کو ملے گا۔ اور ابن عباس سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص ایسی حالت میں مر گیا کہ اس کا کوئی وارث نہیں تھا۔ البتہ اس کا ایک آزاد شدہ غلام تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ترکہ اس کے آزاد شدہ غلام کو عطا فرمادیا۔ چونکہ اس حق موروثیت کی بنیاد مالی اور اقتصادی خیالات پر مبنی نہیں تھی بلکہ اصل منشاء مالک اور آزاد شدہ غلام کے تعلق کو قائم رکھنا تھا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم جاری فرمایا کہ یہ حق موروثیت کسی صورت میں بھی بیچ یا ہبہ وغیرہ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ابن عمرؓ سے روایت آتی ہے کہ ملی رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بيع الولاء وَهِبَتِهِ یعنی "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد شدہ غلام اور آقا کے حق موروث کی خرید و فروخت اور اس کے ہبہ وغیرہ سے منع فرمایا ہے۔“ سیرت خاتم النبیین صل الم ، صفحہ ۴۴۶ تا ۴۴۸) باب ۲۰ : مِيرَاثُ السَّائِبَةِ سائبہ کا حق وراثت ٦٧٥٣: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ :۶۷۵۳ : قبیصہ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا کہ