صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 574
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۷۴ ۸۵- كتاب الفرائض کے بارے میں مجبور نہیں کیا جاسکتا اور قرآن مجید کا ارشاد ان عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا جملہ شرطیہ ہے جس میں مالک کو حق دیا گیا ہے کہ اگر وہ مکاتبت کا مطالبہ کرنے والے لونڈی یا غلام میں بھلائی دیکھے تو مکاتبت کی درخواست قبول کرے۔ لیکن خیر کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر غلام کمانے کے قابل ہو اور وہ مالک کو مطلوبہ رقم دے سکے تو مالک کو اس کی درخواست قبول کر لینی چاہیے۔ ان معنوں کی رُو سے غلام اگر یقین دلاتا ہو کہ وہ مطا مطلوبہ رقم ادا کر سکتا ہے تو پھر مالک کو انکار کی گنجائش نہیں ہونی “ چاہئیے۔ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب المكاتب، باب المُكَاتِبِ وَ نُجُومِهِ ، جلد ۴ صفحه ۵۹۸) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب لکھتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا: اشْتَرِيهَا وَأَعْتَقِيْهَا اسے مالکوں سے خرید لو اور آزاد کر دو۔ اس سے جہاں تک مکاتب غلام کی بیع کا جو از ثابت ہوتا ہے وہاں یہ امر بھی ظاہر ہے کہ از روئے معاہدہ مکاتبت کی حیثیت بین بین ہے ، وہ ایک آزاد انسان کی طرح اپنی مرضی کا مالک ہے۔ کیونکہ اگر بریرہ مکاتبت کے بعد لونڈی کی حیثیت میں ہی ہوتیں تو وہ اپنے ارادے سے اپنے متعلق فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتی تھیں۔ انہوں نے اپنی رضا مندی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تجویز پر عمل کیا۔ یہ ایک تدبیر تھی کہ ورثہ کا جھگڑ اجو مالکوں نے اُٹھایا ہے ختم ہو جائے۔ بریرہ کی بیچ کے بعد مالک حضرت عائم عائشہ تھیں! اور اسے آزاد کئے جانے کے بعد اس کے ورثے کا حق بھی حضرت عائشہ کا تھا نہ اُن کا جو اس کی مکاتبت کے بارے میں مصر تھے کہ اس کے ورثہ کا حق انہیں حاصل ہو گا، جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے باطل نے اس لئے باطل قرار دیا کہ یہ شرط کتاب ) یہ شرط کتاب اللہ میں نہیں، نہ اس آیت میں جہاں مکاتبت کا ارشاد ہے نہ اس آیت میں جہاں ورثہ کی تقسیم کے وہ بارے میں احکام ہیں۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب المكاتب، باب بيع المُكَاتَبِ إِذَا رَضِي ، جلد ۴ صفحہ ۱۰۶) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: یہ مکاتبت کا طریق چونکہ غلاموں کی آزادی کے انتظام کا بنیادی پتھر تھا اس لئے