صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 33
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۳ ٨٠ - كتاب الدعوات کرے اور ان کے ماسوا سے خالی کر دے کیونکہ شیطان انہی چھ جہات سے حملہ کرتا ہے اس کو روکنے کے لئے نور کی دعا کی ہے۔ ( فتح الباری جزءا اصفحہ ۱۴۲، ۱۴۳) إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَعْهَجَّدُ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ : في صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب تہجد پڑھنے کے لئے اُٹھتے تو آپ یہ دعا کرتے: اے اللہ ! تیرے لئے سب حمد ہے۔ علامہ ابن ابطال لکھتے ہیں: عرب کے نزدیک تہجد کا معنی بیدار ہونا ہے اور رات کی نیند کے بعد جاگتا ہے۔ ھجود کا معنی نیند کرنا بھی ہے۔ تہجد کا معنی نیند سے بیدار ہوا اور ہجد کا معنی سویا مستعمل ہیں۔ علامہ اسماعیل بن حماد الجوہری لکھتے ہیں: هَجَد اور تہجد کا معنی ہے رات کو سویا اور یہ اضداد میں سے ہے اس لئے یہ معنے بھی ہیں رات کو بیدار ہوا۔ کے امام نووی نے کہا ہے: تہجد کا معنی ہے نیند چھوڑ کر رات کو نماز پڑھنا۔ شیرے حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد کے لئے اٹھتے تو یہ دعا کرتے: اے اللہ سب تعریفیں تیرے لئے ہیں تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کا نور ہے اور اسے قائم رکھنے والا ہے۔ پس جہاں جس حد تک نور سے تعلق ٹوٹا وہاں انسان ڈھے گیا، وہاں مسمار ہو گیا کیونکہ قیام کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نور سے باندھا ہے۔ تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کا نور ہے اور اسے قائم رکھنے والا ہے یعنی صرف پیدا کرتے وقت تخلیق کے وقت ہی نور نے کارروائی نہیں کی بلکہ اس کو ہمیشہ قائم رکھنے کے لئے نور کے ساتھ اس کا ایک تعلق رابطہ ہے جو نہ ختم ہونے والا ہے ۔۔۔ یہ دعا در اصل نور ہی کے حوالے سے کی جارہی ہے اور اس میں جگہ جگہ کھلے لفظوں میں کہے بغیر وہ حوالے دکھائی دیتے ہیں۔ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عرض کرتے ہیں مجھے بخش دے جو میں پہلے کر چکا ہوں ! اہوں اور جو بعد میں سرزد ہو۔ نور کا علم سے ایک تعلق ہے اور علم اور نور بعض پہلوؤں سے ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ پس آپ فرماتے ہیں کہ جو میں پہلے کر چکا ہوں مجھے تو اس کے متعلق بھی پورا علم نہیں کہ کوئی ایسی بات نہ ہو گئی ہو جو تیرے لئے نا پسندیدگی کا موجب ہو ۔ مگر جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا ا (شرح صحیح البخاری لابن بطال، ابواب تقصیر الصلاة، باب ة، باب التهجد بالليل، جلد ۳ صفحه ۱۰۸) الصحاح للجوهري - هجد) المجموع شرح المهذب للنووی، جزء ۴ صفحه ۱۹)