صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 570
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۷۰ ۸۵ - کتاب الفرائض رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا لَا عَنَ امْرَأَتَهُ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ایک شخص نے فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی عورت سے وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ النَّبِيُّ لعان کیا اور اس کے بچے سے انکار کر دیا کہ یہ اس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ کا نہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو الگ کر دیا الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ۔اور بچے کو عورت کے حوالے کر دیا۔أطرافه ،٤٧٤٨ ، ٥٣٠٦، 53۱۳، 5314، 5315۔تريح مِيرَاتُ المُلا عنة: العان کرنے والی عورت کا حق وراثت۔میاں بیوی کے رشتہ میں خاوند بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے اور اپنا دعویٰ ثابت نہ کر سکے تو میاں بیوی دونوں پانچ پانچ قسمیں کھائیں گے۔اس کا ذکر سورۃ النور آیت کے تا ۱۰ میں ہے۔لعان کی صورت میں ان میں علیحد گی کر دی جائے گی اور اس عورت کا بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوگا اور وَالْحَق الْوَلَد بِالْمَرُ أَي سے یہ بھی مراد ہے وہ دونوں ماں بیٹا ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔مگر لعان کرنے والے مرد کا ناطہ ان سے منقطع ہو جائے گا۔نہ وہ ان کا وارث بنے گا نہ وہ اس کے وارث بنیں گے۔بَاب ۱۸ : الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً بچہ اسی کا ہو گا جس کے بستر پر جنا گیا خواہ وہ آزاد عورت ہو یا لونڈی ٦٧٤٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۶۷۴۹: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔وہ بیان کرتی تھیں: قَالَتْ كَانَ عُتْبَةُ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ قبہ نے اپنے بھائی سعد کو یہ وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا مجھ سے ہے اس لئے تم اس کو اپنے فَلَمَّا كَانَ عَامَ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ فَقَالَ ابْنُ أَخِي عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَامَ لے لیا اور کہا: یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے۔اس نے عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ اس کے متعلق مجھے وصیت کی تھی۔عبد بن زمعہ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ فَتَسَاوَقَا إِلَى کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: یہ میر ابھائی ہے اور النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے ، اسی کے بستر پر جنا پاس لے لینا۔جس سال مکہ فتح ہو اسعد نے اس کو