صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 571
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۷۱ ۸۵- كتاب الفرائض سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ گیا۔ آپس میں کھینچ تان کرتے ہوئے دونوں نبی عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي لا الم کے پاس پہنچے، سعد نے کہا: یا رسول اللہ ! وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَ میرے بھائی کا بیٹا ہے۔ اس نے مجھے اس کے متعلق النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ لَكَ وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ نے کہا: میرا بھائی ہے۔ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے اور اس کے بستر پر جنا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبد بن زمعہ الْحَجَرُ ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ یہ تمہارا ہی ہے۔ بچہ اس کا ہوتا ہے جس کے بستر احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ۔ پر جنا جاتا ہے اور زانی کو پتھر پڑتے ہیں۔ پھر آپ نے حضرت سودہ بنت زمعہ سے فرمایا: اس سے پردہ کرنا اس لئے کہ آپ نے عقبہ سے اس کی شکل ملتی جلتی دیکھی اور اس لڑکے نے حضرت سودہ کو نہیں دیکھا اور اسی حالت میں اللہ سے جاملا۔ أطرافه: ۲۰۰۳، ۲۲۱۸، ۲۴۲۱، ۲۵۳۳، ٢٧٤٥ ، ٤٣٠٣، ٦٧٦٥، ٦٨١٧، ٧١٨٢۔ ٦٧٥٠ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَى ۶۷۵۰: مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ مسدد نے عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ يحي سے پچی نے شعبہ سے ، شعبہ نے محمد بن زیاد أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَدُ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ۔ سنا۔ حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: بچہ اسی کا ہو گا جس طرفه: ٦٨١٨ - کے بستر پر جنا گیا۔ تشريح : الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً : بچہ اس کا ہوگا جسکے بسر پر بن گیا خواہ وہ آزاد عورت ہو یا لونڈی۔ ایسے معاملات جن میں یہ اشتباہ ہو کہ بچہ کس کا ہے؟ یہ اصول سب سے زیادہ محفوظ اور معقول ہے کہ الْوَلَدُ لِلْفِرَائیں۔ اس سے ماں اور بچہ دونوں ہر قسم کی تہمت اور انگشت نمائی سے بچ جائیں گے۔ ان مبارک الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی عصمت کی حفاظت بھی کی ہے اور بچے کے نسب کی بھی حفاظت فرمائی ہے۔ ورنہ ایسی عورتوں اور بچوں کا معاشرے میں جینا دو بھر ہو جائے خاص طور پر وہ بچہ جس کا اپنا کوئی قصور نہیں ہے۔ کسی مرد یا عورت کے عمل کا بوجھ اس معصوم پر کیوں ڈالا جائے، بلکہ اس معصوم کے طفیل اس