صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 569 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 569

۵۶۹ صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۵- کتاب الفرائض کا ماموں ہوتا ہے ، ثابت کرتی ہے کہ اگر ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پھر میت کے ذوی الار حام اس کے ترکہ کے حقدار ہوتے ہیں۔نیز یہ حدیث: عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ابْنُ أُخْتِ القَوْمِ مِنْهُمْ أَوْ مِنْ أَنفُسِهِمْ - حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کا بھانجا انہی میں سے ہوتا ہے۔مذکورہ بالا دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ جب ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو ذوی الار حام کو میراث پہنچتی ہے اور امام ابو حنیفہ اسی مسلک کے قائل تھے۔فَلَمَّا نَزَلَتْ وَلِكُلّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ قَالَ نَسَخَتُهَا وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَیمَانُكُمُ : جب یہ آیت نازل ہوئی کہ وَاحِدٍ جَعَلْنَا مَوالی تو انہوں نے کہا: اس نے اس کو منسوخ کر دیا یعنی وَالَّذِینَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ۔اس آیت کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس آیت کے متعلق مفسرین لکھتے ہیں کہ عَقَدَتُ أَيْمَانُكُمْ میں اشارہ ایسے دوستوں کی طرف ہے جن کو حلیف بنا لیا گیا تھا یعنی قسموں سے اپنا بھائی قرار دیا گیا تھا۔وہ پہلے وارث ہوتے تھے، بعد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ورثہ سے محروم کر دیا لیکن یہ معنے درست نہیں کیونکہ اس آیت میں تو عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ والوں کو وارث قرار دیا ہے۔پس منسوخی کا سوال ہی نہیں۔اگر مفسرین کی بات مانی جائے تو پھر یہ معنے کرنے ہوں گے کہ اس آیت سے ان کو وارث قرار دیا گیا تھا مگر حدیث نے ان کو غیر وارث قرار دے دیا یعنی حدیث قرآن کی ناسخ ہے اور یہ بات اکثر فقہاء کے نزدیک بھی جائز نہیں۔پس معنے وہی درست ہیں جو میں نے کیے ہیں یعنی عَقَدَتْ ایمانکم سے مراد بیویاں یا خاوند ہیں اور ان کا وارث ہونا قرآن سے ثابت ہے اور اب تک وارث چلے آتے ہیں۔ان معنوں کی روسے نہ کوئی ناسخ رہتا ہے نہ منسوخ ( تفسیر صغیر، سورۃ النساء، زیر آیت وَالَّذِينَ عَقَدَتْ ايْمَانُكُمْ حاشیه صفحه ۱۱۳) باب ۱۷ : مِيرَاثُ الْمُلَاعَنَةِ - لعان کرنے والی عورت کا حق وراثت ٦٧٤٨ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ :۶۷۴۸: یحی بن قزعہ نے مجھ سے بیان کیا کہ مالک حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت (صحیح البخاری، کتاب الفرائض، بَاب مَوْلَى القَوْمِ مِنْ أَنفُسِهِمْ ، روایت نمبر ۶۷۶۲