صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 568
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۶۸ ۸۵ - کتاب الفرائض یح : ذوى الأَرْحَامِ : رمی رشتہ دار۔ارحام رحم کی جمع ہے۔وراثتی اصطلاح میں ذوی الارحام أن لوگوں کو کہا جاتا ہے جن سے رشتہ داری بذریعہ رحم ہو مگر ان کا شمار ذوی الفروض اور عصبات میں نہ ہو۔مثلاً نواسہ ، نواس، بھانجا، بھانجی ، نانا، پھوپھی اور پھر ان کی اولادیں وغیرہ۔ذوی الارحام کے میراث پانے کے بارے میں صحابہ اور ائمہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔اکثر صحابہ، تابعین اور ائمہ احناف اس بات کے قائل ہیں کہ ذوی الارحام حالات کے مطابق ترکہ کے مطلقا وارث ہو سکتے ہیں خواہ بیت المال کا انتظام موجود ہو یا نہ ہو۔حضرت عمرؓ، حضرت علی، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابو الدردا، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح اس امر کے حق میں ہیں کہ جب ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پھر ترکہ ذوی الارحام میں تقسیم ہوتا ہے اور یہی لوگ مطلقا ترکہ کے وارث ہوتے ہیں۔یہی رائے عمر بن عبد العزیز حسن بصری ، امام ابو حنیفہ اور ان کے دو لائق اور قابل شاگردان رشید امام محمد اور امام ابو یوسف کی ہے۔بعض صحابہ کی رائے یہ ہے کہ اگر ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو میت کا ترکہ تمام کا تمام بیت المال میں داخل کر دیا جائے کیونکہ ذوی الارحام کسی طور پر بھی میراث کے حقدار نہیں۔اس رائے کے حق میں حضرت زید بن ثابت اور فقہاء میں سے امام شافعی اور امام مالک ہیں۔ان کا استدلال یہ ہے کہ اگر ذوی الارحام میراث میں حصہ پانے کے حقدار ہوتے تو ان کا ذکر بھی سورہ نساء کی آیت میراث میں کہیں نہ کہیں ضرور ہوتا۔ذوی الارحام کو میراث دلوانے والوں کی دلیل یہ ہے کہ اگر چہ قرآن کریم میں جہاں وراثت کا ذکر ہے وہاں ذوی الارحام کا ذکر نہیں لیکن دوسری جگہ ان کا ذکر موجود ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَأُولُوا الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أولى بِبَعْضٍ في كتب الله (الأحزاب: ۷) بعض رحمی رشتہ دار بعض کی نسبت اللہ کی کتاب کی رو سے زیادہ قریبی ہوتے ہیں۔(المبسوط للسرخسي، كتاب الفرائض ، باب میراث ذوی الارحام، جزء ۳۰ صفحه ۲ تا ۵) اس جگہ اولو الارحام سے ذوی الارحام ہی مراد ہیں کیونکہ ذوی الفروض اور عصبات کا ذکر آیات میراث (سورہ نساء) میں آچکا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف را ہنمائی فرمائی ہے کہ ذوی الارحام بھی درجہ اور قوت قرابت مختلف ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں۔پھر اس امر کی تائید سنت رسول اور احادیث نبوی سے بھی ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت سعید بن منصور سے مروی ہے کہ حضرت ثابت بن دحداث جب فوت ہوئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت قیس بن عاصم سے دریافت فرمایا کہ اس کی نسبت تم جانتے ہو ؟ حضرت قیس بن عاصم نے کہا کہ یہ ہم میں غیر تھا، ہم صرف اس کے بھانجے کو پہچانتے ہیں۔وہ ابولبابہ بن عبد منذر ہے۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی میراث اس کے بھانجے کو دے دی۔(موطا امام مالك برواية محمد بن حسن الشيباني، كتاب الفرائض، باب ميراث العمة) (المبسوط للسرخسى، کتاب الفرائض ، باب میراث ذوی الارحام ، جزء ۳۰ صفحه ۳) نیز یہ حدیث ہے کہ وَالخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، یعنی جس کا اور کوئی بھی وارث نہ ہو تو اس کا وارث اس (سنن الترمذی، ابواب الفرائض، باب ملا ماء في ميراث الخال)