صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 547 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 547

۵۴۷ صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۵- کتاب الفرائض اور عمل کے خلاف کوئی قدم اُٹھاتے ، رسول اللہ کے فیصلہ کو جاری کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل پر مضبوطی سے قائم ہونا اور لَوْمَةَ لاٹھ کے خوف سے بالا تر ہو کر اور قرابت رسول کے رشتے کے تقدس عظمت شان اور غیر معمولی جذباتی محبت جو حضرت ابو بکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے تھی، کے باوجود حضرت ابو بکڑ کا محبت اور جذبات کی قربانی دے کر اصول پر قائم رہنا الاستقامَةُ فَوْقَ الْكِرَامَة کا مقام ثابت کرتا ہے۔آلِ رسول سے محبت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت ابو بکر نے فرمایا: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَى أَنْ أَصِلَ مِن قَرائتي " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار یقینا مجھے میرے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ پیارے ہیں۔پس منصب خلافت کا یہی تقاضا تھا جسے حضرت ابو بکڑ نے بڑی شان سے پورا کیا۔وہ جانتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور عمل اور مقام نبوت کے شایانِ شان یہی فیصلہ ہے جو انہوں نے کیا اور اس فیصلہ کی توثیق ان کے بعد آنے والے تینوں خلفاء حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علیؓ نے کی اور اسی پر سب کا عمل رہا اور تمام صحابہ کا خلفائے راشدین کے اس تعامل میں ان کا ساتھ دینا اُمت کا وہ اجماع ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد دوسرا بڑا اجماع ہے۔اہل تشیع کے لیے تو حضرت علی کا حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کے اس فیصلہ کو قائم رکھنا اور اپنا اور اپنی اولاد کا اسے ورثہ نہ بنانا بہت بڑی اور مضبوط دلیل ہے اگر کوئی صاف دل ہو کر اس پر غور کرے۔ورثہ کی تقسیم میں ایک بحث صدیوں سے چلی آرہی ہے اور اگر چہ اس کے متعلق قرآن کریم کی نص صریح اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا واضح فیصلہ اور امت کا (سوائے شیعہ کے ) اس پر اجماع ہے مگر پھر بھی یہ معاملہ ایسا حساس اور جذباتی ہے کہ لوگ ہر دور میں اس پر بحث کرتے آئے ہیں کہ اگر کسی کی اولاد صرف ایک بیٹی یا دو یا دو سے زائد بیٹیاں ہی ہوں یعنی نرینہ اولاد نہ ہو تو قرآنِ کریم میں بیان فرمودہ ورثہ کی تقسیم فَإِنْ كُنَ نِسَاءَ فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثلُنَا مَا تَرَكَ وَ إِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ (النساء: ۱۳) اگر (اولاد) عورتیں (ہی عورتیں) ہوں جو دو سے اوپر ہوں تو ان کے لئے (بھی) جو کچھ اس (مرنے والے) نے چھوڑا ہو (اس کا ) دو تہائی مقرر ہے اور اگر ایک ہی عورت) ہو تو اس کے لئے (ترکہ کا ) آدھا ہے۔اس تقسیم کے بعد رڈ کے اصول کے طور پر اسی بیٹی یا ایک سے زائد بیٹیوں کی صورت میں ان کو دو تہائی دینے کے بعد بقیہ حصہ رڈ کے اصول کے مطابق انہی بیٹیوں کو دے دیا جائے گا۔گوان بیٹیوں کا کوئی چا زندہ موجود ہو تو اسے بقیہ حصہ نہیں ملے گا بلکہ بقیہ حصہ بھی بیٹی یا بیٹیوں کی طرف ہی لوٹ جائے گا۔زیر باب حدیث میں اس مسئلہ کا بھی حل کیا گیا ہے جیسا کہ روایت میں ذکر ہے۔حضرت فاطمہ اور حضرت عباس حضرت ابو بکر سے اپنا حصہ وراثت مانگنے آئے۔اصول رو کے حامیوں کو اس روایت کو غور سے پڑھنا چاہیئے۔حضرت ابو بکر نے حضرت عباس کو یہ نہیں کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ورثہ تقسیم ہو گا تو حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ کو نصف ملے گا اور بقیہ نصف بھی رد کے طور پر انہی کو ملے گا اور نہ حضرت عمر نے حضرت علی کے اور حضرت عباس (صحیح البخاری، کتاب اصحاب النبي ﷺ بَاب مَناقِبِ قَرَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)