صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 548 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 548

۵۴۸ صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۵- کتاب الفرائض کے مطالبے پر حضرت عباس کو یہ دلیل دی کہ بنتِ رسول کو نصف ملنے کے بعد بقیہ نصف بھی اُصولِ رد کے طور پر حضرت فاطمہ کا حصہ ہے جس کا مطالبہ ان کا خاوند علی کر رہا ہے۔پس یہ رد کا اصول رد کے لائق ہے جو خلاف قرآن اور خلاف سنتِ رسول ہے۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ربیع کی بیوہ اور بیٹیوں کو ان کا حق دینے کے بعد بقیہ حصہ بیٹیوں کے چچا کو دیا تھا۔جَاءَتْ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الربيع إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الربيع، قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ فِي أُحُدٍ شَهِيدًا، وَإِنَّ عَمهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا وَلَا يُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ، قَالَ: فَقَالَ: يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاتِ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَيْهِمَا، فَقَالَ: أَعْطِ ابْنَتَى سَعْدِ الظُّلُقَيْنِ، وَأُمَّهُمَا القُمنَ، وَمَا يَقِي فَهُوَ لَكَ - حضرت سعد بن ربیع کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! سعد تو آپ کے ساتھ اُحد میں شریک تھے اور شہید ہو گئے ، اُن کی یہ دو بیٹیاں ہیں۔سعد کے بھائی نے سارا مال قبضے میں لے لیا ہے۔آپؐ نے فرمایا: اس کے متعلق اللہ فیصلہ فرمائے گا۔اس کے بعد آیت میراث نازل ہوئی۔آپ نے سعد کے بھائی کو بلا کر فرمایا : سعد کے ترکہ کا دو تہائی اس کی دونوں بیٹیوں کو ، آٹھواں حصہ اس کی بیوی کو اور جو باقی بچے وہ تمہارا ہے۔پس بیٹی یا بیٹیوں کے ساتھ چا بھی ہو تو بیٹیوں کو ان کا حق دینے کے بعد بقیہ چا کو ملے گا نہ کہ رڈ کے طور پر انہی بیٹیوں کو۔فَهَجَرَتُهُ فَاطِمةُ فَلَمْ تُكَلِّمُهُ حَتَّى مَا تَتْ: اس پر حضرت فاطمہ نے حضرت ابو بکر کو چھوڑ دیا اور اپنے مرنے تک ان سے (اس بارے میں) بات نہیں کی۔اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے اس امر پر غور و فکر کی ضرورت ہے کہ یہ بات حضرت فاطمہ کی شایانِ شان ہے یا ان کے مقام و مرتبہ کے منافی ہے۔کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پلنے والی جہاں فرشتوں کا نزول ہو تا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت، دعاؤں، تاثیرات قدسی اور صحبت صادقہ کا یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ بنتِ رسولِ جگر گوشہ رسول، حب الرسول، جو نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اس بیٹی کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول اور عمل بتایا گیا تو وہ سخت ناراض ہو گئیں اور بتانے والے پر اس قدر خفا ہو ئیں کہ تادم واپسیں ان سے کلام نہ کیا۔یہ حضرت فاطمہ کے مقام، شان اور محبتِ رسول کے خلاف ہے۔یہ سیرتِ فاطمہ نہیں ہو سکتی۔پس اس امر کو جذبات کی بجائے حقائق کی روشنی میں دیکھنا چاہیئے۔حقائق یہ ہیں کہ وراثت کا مطالبہ ازواج مطہرات کی طرف سے بھی ہوا مگر جب حضرت عائشہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد دلایا تو سب ازواج خاموش ہو گئیں۔کیا فاطمہ بنت رسول کی محبت رسولِ ازواج سے کم تھی؟ ہرگز نہیں۔تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد یاد دلانے پر خفا کیوں ہوں گی۔الفاظ فَهَجَرَتْهُ فَاطةُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ اگر یہ الفاظ درست بھی ہیں تو ان کا یہ مطلب ہرگز درست نہیں ہے کہ حضرت فاطمہ کو حضرت ابو بکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول اور عمل جب یاد دلایا تو وہ سخت خفا ہو گئیں۔بلکہ اس کے صاف اور سیدھے معنے جو حضرت فاطمہ کے شایانِ شان (مسند احمد بن حنبل، جزء ۳ صفحه ۳۵۲)