صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 546
۵۴۶ صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۵ - کتاب الفرائض أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمَّا سَأَبْلُهَا بِبَلَالِهَا اے فاطمہ ! اپنی جان کو آگ سے بچاؤ کیونکہ میں اللہ کے مقابلہ پر تمہارے لئے کوئی اختیار نہیں رکھتا سوائے اس کے کہ تمہارے ساتھ رحمی تعلق ہے جس کے حقوق میں ادا کر تار ہوں گا۔یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ جس ورثہ اور ترکہ کا لا نُورٹ کی حدیث میں ذکر ہے اس سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی جائیداد اور اموال نہیں ہیں بلکہ وہ اموال اور جائیدادیں مراد ہیں جو بطور رسول آپ کو ملیں۔وہ چونکہ قومی اور ملکی اموال و جائیدادیں تھیں اس لیے ان سے روز مرہ کے اخراجات کا ایک مخصوص حصہ تو آپ کی ازواج و خاندان کو متار ہامگر چونکہ وہ ذاتی اموال و جائیدادیں نہ تھیں اس لیے ان کا بطور ورثہ تر کہ آپ کی ازواج یا اولاد و آل کا حق نہ تھا اس لیے وہ آپ کی ازواج یا آل میں تقسیم نہ ہوا جیسا کہ آپ نے فرمایا: مائر كنا صدَقَةٌ۔وہ قومی مد میں ڈالے جانے والے اموال و جائیدادیں تھیں۔جہاں تک آپ کی ذاتی جائیدادوں کا تعلق ہے، وہ ہجرت کے بعد آپ کے چا زاد بھائی عقیل بن ابی طالب نے سب بیچ دی تھیں اور ان میں سے کچھ باقی نہ بچا تھا۔اس وضاحت سے اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ہو جانا چاہیئے جو بعض لوگ امام الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ورثہ کے متعلق سوال اٹھاتے ہیں، آپ کی خاندانی جائیداد کے آپ بھی وارث بنے جیسے حضرت سلیمان" اپنے والد حضرت داؤد کے وارث بنے اور آپ کی اولاد بھی آپ کی وارث بنی۔زیر باب روایات میں ذکر ہے کہ حضرت فاطمہ اور حضرت عباس حضرت ابو بکر سے اپنا حق وراثت مانگنے گئے نیز حضرت علی اور حضرت عباس کا حضرت عمر سے اپنا حق وراثت مانگنے کا ذکر ہے۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کا ایک ہی جواب تھا جو سنتِ رسول اور فیصلہ رسول کے مطابق تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جائیدادوں اور اموال کو کبھی بھی اپنی ذاتی ملکیت قرار نہیں دیا بلکہ پانچویں حصہ میں سے بھی صرف اتنا ہی تصرف فرماتے جو آپ کی ازواج اور آل اور عاملین کے اخراجات کو پورا کرتا۔باقی مال آپ قومی ضرورتوں میں صرف فرماتے جیسا کہ حدیث نمبر ۶۷۲۸ کے الفاظ ہیں : فَيَجْعَلُهُ فَجَعَلَ مَالِ اللهِ فَعَمِلَ بِذَاكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ اور اس کو ان کاموں میں خرچ کرتے جہاں اللہ کا مال خرچ کیا جاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ساری عمر اسی پر عمل کرتے رہے۔اور آپ کا واضح ارشاد جو زیر باب روایت ۶۷۲۹ میں امام بخاری نے درج کیا ہے: لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَبِي دِينَارًا ، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَانِي وَمَتُونَةٍ عَامِلِي فَهُوَ صدَقَة۔میرے وارث ایک دینار بھی تقسیم نہ کریں گے۔اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے کارندوں کے خرچ کے بعد جو میں چھوڑ جاؤں تو وہ صدقہ ہوگا۔پس حضرت ابو بکر نے حضرت فاطمہ اور حضرت عباس کو رسول اللہ کا قول اور عمل بتایا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخر وقت تک قائم رہے۔اس سے بہتر اور صحیح جواب اور کیا ہو سکتا ہے۔حضرت ابو بکر نے اپنی طرف سے تو کچھ نہیں کہا نہ کوئی ذاتی رائے دی نہ اپنی طرف سے کوئی نیا فیصلہ جاری فرمایا اور بطور خلیفہ الرسول آپ کے مقام اور منصب کا بھی یہی تقاضا تھا۔اعتراض تو تب ہوتا اگر حضرت ابو بکر رسول اللہ صل اللوم کے فیصلہ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب في قَوْلِهِ تَعَالَى وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ)