صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 545 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 545

حصہ ۵۴۵ صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۵- کتاب الفرائض انبیاء چو نکہ حقیقی معنوں میں واقف زندگی ہوتے ہیں اور دنیا کو تیاگ کر خالق و مالک اور محبوبِ حقیقی کے لیے دنیا ومافیہا کو چھوڑتے ہیں اس لیے دنیا کے اموال اور جائیدادیں اس لیہی وقف کے انعام کے طور پر دنیا میں بھی ان کو ملتی ہیں اور بے تحاشا ملتی ہیں اور اموال اور نعماء دنیا ان کی طرف اس طرح کھنچے آتے ہیں جیسے لوہا مقناطیس کی طرف مگر وہ ان سے کلیۂ بے نیاز ہوتے ہیں، ہاں بشری ضروریات کے لیے قوت ما لا یموت کے طور پر وہ اپنی ذات اور ازواج اور اولاد پر خرچ کرتے ہیں کیونکہ یہ بھی انہیں خدا کا حکم ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ نے ان کے لیے اور ان کی آل کے لیے وہ ہ مقرر کیا ہے۔جیسا کہ فرمایا: مَا أَفاءَ اللهُ عَلى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَى وَ الْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ (الحشر: ۸) بستیوں کے لوگوں کا جو مال اللہ نے اپنے رسول کو عطا فر ما یاوہ اللہ کا ( ہے ) اور رسول کا (ہے) اور قرابت داروں کا (ہے) اور یتیموں کا (ہے) اور مسکینوں کا (ہے) اور مسافروں کا (ہے)۔نیز فرمایا: وَاعْلَمُوا انَّمَا عَنْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خَمْسَةَ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَنى وَالْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ (الأنفال: ۴۲) اور جان لو کہ جو کچھ بھی تم کو غنیمت میں ملے اس میں سے اللہ اور اس کے رسول کے لئے اور (رسول سے ) قرب رکھنے والوں کے لئے اور یتیموں اور مسکینوں کے لئے اور مسافروں کے لئے پانچواں حصہ ہے۔پس خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کر وہ یہ خاص حصہ وہ اپنے اور اپنے عیال پر خرچ کرتے ہیں جیسا کہ زیر باب روایت ۶۷۲۶ میں بیان کیا گیا ہے۔زیر باب روایت کی شرح میں جانے سے پہلے اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ انبیاء اپنی ذاتی ملکیت یا خاندانی ملکیت کے وارث بھی بنتے اور ان کی ازواج و اولاد اور دیگر اقرباء بھی وارث بنتے ہیں۔قرآن کریم نے احکام ورثہ میں اس بات کی کہیں نفی نہیں کی کہ یہ احکام انبیاء کے علاوہ دیگر لوگوں کے لیے ہیں اور نبی پر ان کا اطلاق نہیں ہو تا بلکہ اس کے برعکس قرآن کریم نے حضرت سلیمان اور حضرت داؤد کے ذکر میں یہ صراحت کی ہے: وَوَرِثَ سليمن داؤد (النمل: ۱۷) اور سلیمان داؤد کا وارث بنا۔اور حضرت زکریا کی اپنے بیٹے کے لیے دعا کے یہ الفاظ ہیں: يرثى وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ ( مريم :) جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کا بھی وارث ہو۔ان آیات میں جس ورثہ کا ذکر ہے علماء نے اس سے مراد اُن کی نبوت اور روحانیت کو قرار دیا ہے اور مادی ورثہ کی نفی کی ہے مگر قرآنِ کریم اور احادیث میں کہیں اس کی صراحت نہیں کہ یہاں مادی ورثہ مراد نہیں بلکہ روحانی ورثہ مراد ہے۔اس لیے یہ معنے نبوت کے انعام کو محدود کرنے والے ہیں۔نبی کا وجود مجسم برکت اور خیر ہوتا ہے اور یہ برکت مادی ہو یا روحانی، نبی کی آل و اقرباء بھی اس سے حصہ پاتے ہیں اور وہ تمام لوگ بھی جو حقیقی معنوں میں نبی کی آل کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں یعنی نبی کے حقیقی متبعین اور کامل اطاعت گزار کیونکہ نبی کی نبوت تو ایک قومی انعام ہوتا ہے اور قوم کا ہر فرد اس کا حق دار ہوتا ہے چاہے وہ حسب و نسب کے لحاظ سے نبی کا مقرب ہو یا نہ ہو، اس میں کوئی تفریق نہیں ہے۔جس طرح یہ انعام یونیورسل ہے اسی طرح اس کا انکار اور ناقدری اور تکذیب بھی یونیورسل ہے۔جو بھی اس کی زد میں آئے گاوہ سزا پائے گا اور محض رشتہ داری اسے بچا نہیں سکے گی۔اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمہ اور پھوپھی اور دیگر رشتہ داروں کو واضح فرمایا کہ میرے ساتھ تمہارا رشتہ تمہیں خدا کے مقابل نہیں بچائے گا۔یا فاطمة،