صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 542
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۴۲ ۸۵ - كتاب الفرائض عَلَى أَهْلِهِ مِنْ هَذَا الْمَالِ نَفَقَةَ سَنَتِهِ کہ ان میں سے یہ جائیداد باقی رہ گئی اور نبی صلی علی رام ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اس جائیداد سے اپنے گھر والوں کو ایک سال کا خرچ اللَّهِ فَعَمِلَ بِذَاكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ دیا کرتے تھے پھر جو باقی بچ جاتا وہ آپ لیتے اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ هَلْ اس کو ان کاموں میں خرچ کرتے جہاں اللہ کا مال تَعْلَمُونَ ذَلِكَ قَالُوا نَعَمْ ثُمَّ قَالَ لِعَلِيّ خرچ کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ ہم اپنی ساری عمر وَعَبَّاسٍ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ اسی پر عمل کرتے رہے۔ میں تم کواللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم یہ جانتے ہو ؟ ان لوگوں نے ذَلِكَ قَالَا نَعَمْ فَتَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ کہا: ہاں ایسا ہی تھا۔ پھر حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ ها التوسل انہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِيُّ اور حضرت عباس سے کہا: میں تم دونوں سے اللہ کی رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم یہ جانتے ہو ؟ ؟ فَقَبَضَهَا فَعَمِلَ بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ نے کہا: ہاں۔ پھر اللہ نے اپنے نبی صلی الم کو وفات صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَوَفَّى اللهُ وی اور حضرت ابو بکر نے کہا: میں رسول اللہ صلی ا یم أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ کا جانشین ہوں اور انہوں نے ان جائیدادوں کو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ اپنے قبضہ میں لیا اور ان میں وہی تصرف کرتے أَعْمَلُ فِيهَا مَا عَمِلَ رَسُولُ اللهِ رہے جو رسول اللہ صلی علیم نے ان جائیدادوں میں کیا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ تھا۔ پھر اللہ نے حضرت ابو بکر کو وفات دی اور میں جِئْتُمَانِي وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةً وَأَمْرُ کُما نے کہا میں سول لالہ علی علیم کا جانشین ہوں نے دو سال تک ان جائیدادوں کو اپنے قبضہ میں رکھا جَمِيعٌ جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي نَصِيبَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ وَأَتَانِي يَسْأَلْنِي نَصِيبَ امْرَات اس میں وہ تصرف کر تا بہ جو رسل اللہ کی ایم اور حضرت ابو بکر نے کیا۔ پھر تم دونوں میرے پاس مِنْ أَبِيهَا فَقُلْتُ إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهَا آئے اور تمہاری بات ایک ہی تھی اور تمہاری رائے إِلَيْكُمَا بِذَلِكَ فَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَاءً متفقہ تھی، تم میرے پاس آئے مجھ سے اپنے بھتیجے غَيْرَ ذَلِكَ فَوَاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ کے مال سے اپنا حصہ مانگنے لگے اور یہ بھی میرے السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ لَا أَقْضِي فِيهَا قَضَاءً پاس آئے اپنی بیوی کا حصہ مجھ سے مانگنے لگے جو غَيْرَ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ فَإِنْ انھیں ان کے باپ کی طرف سے پہنچتا تھا۔ میں نے ہوں اور میں