صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 541
صحیح البخاری جلد ۱۵ ولدا ۸۵ - كتاب الفرائض بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ عباس کو ملنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔حضرت الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ عباس نے کہا: امیر المؤمنین! میرے اور ان کے هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ درمیان فیصلہ کر دیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا تم کو اس اللہ کی قسم دے کر پوچھے لے کر پوچھتا ہوں جس کے صَدَقَةٌ يُرِيدُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ حکم سے یہ آسمان اور زمین قائم ہیں۔ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا تھا: ہمارا کوئی ورثہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ فَقَالَ الرَّهْطُ قَدْ نہیں پائے گا، جو ہم چھوڑ جائیں صدقہ ہو گا، رسول اللہ قَالَ ذَلِكَ فَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٌّ وَعَبَّاسٍ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد اپنی ذات تھی۔ اس فَقَالَ هَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ جماعت نے کہا: بے شک آپ نے ایسا فرمایا تھا۔ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ قَالَا پھر حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ اور حضرت عباس کی قَدْ قَالَ ذَلِكَ قَالَ عُمَرُ فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ إِنَّ اللهَ قَدْ كَانَ خَصَّ رسول الله صلی علیم نے ایسا فرمایا تھا ؟ انہوں نے کہا: لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا بے شک آپ نے ایسا فرمایا تھا۔ حضرت عمر نے کہا: الْفَيْءِ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ پھر میں تمہیں اس معاملہ کے متعلق بیان کرتا ہوں۔ فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ اللہ نے اپنے رسول صلی علیم کے لیے فے میں سے إِلَى قَوْلِهِ قَدِيرٌ (الحشر: ٧) فَكَانَتْ کچھ حصہ مخصوص فرمایا جو اس نے آپؐ کے سوا کسی الله اور کو نہیں دی۔ چنانچہ اللہ عز و جل فرماتا ہے : ما خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُوله ۔۔ لے تو یہ جائیدادیں رسول وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ وَلَا للہ صلی العلوم کے لئے ہی خاص تھیں۔ اللہ کی قسم آپ اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ لَقَدْ أَعْطَاكُمُوهَا نے ان کو تمہارے سوا کسی کے لیے محفوظ نہیں کیا وَبَنَّهَا فِيكُمْ حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ اور نہ ہی ان کے خرچ کرنے میں تم پر کسی کو ترجیح فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ دی تمہیں ہی دیں اور تم پر ہی تقسیم کیں یہاں تک وو ا ترجمه حضرت خليفة الله یفة المسیح الرابع : اور اللہ نے اُن کے اموال میں ) سے اپنے رسول ، اپنے رسول کو جو بطور غنیمت عطا کیا تو اس پر تم نے نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کر دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔“