صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 532
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۳۲ ۸۵- کتاب الفرائض حصہ ا ہدایت فرمائی کہ جب کسی شخص کی موت کا وقت قریب آجائے یا وہ کسی ایسے خطر ناک مقام کی طرف جانے لگے جہاں جانے کا نتیجہ عام حالات میں موت ہوا کرتا ہے اور پھر اُس کے پاس مال کثیر بھی ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ وصیت کر دے کہ اُس کی جائیداد احکام الہیہ کے مطابق تقسیم کی جائے تاکہ بعد میں کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو اور یہ تاکید بجائے اس کے کہ کسی اور کو کی جائے اپنے رشتہ داروں کو کرے اور اگر مال کا کوئی صدقہ کرنا ہو تو اس کا بھی اظہار کر دے۔میں سمجھتا ہوں اگر مسلمان اس تعلیم پر عمل کرتے تو وہ رواج جو شرعی تقسیم وراثت کے خلاف اُن میں جاری رہا کبھی جاری نہ ہوتا۔جس ملک میں اسلامی شریعت کا نفاذ ہو وہاں تو کسی رواج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن ایسے ممالک جہاں رواج کا سوال پیدا ہو وہاں اس امر کی شدید ضرورت ہوتی ہے کہ مرنے والا اپنے والدین اور رشتہ داروں کے حق میں یہ وصیت کر جائے کہ اُن میں معروف کے مطابق جائیداد تقسیم کی جائے ورنہ اس کا مال رواجی مستحقوں کو مل جائے گا اور اصل مستحقین محروم رہ جائیں گے۔رہا یہ سوال کہ معروف کیا ہے ؟ سو ایک تو احکام وراثت معروف ہیں اُن پر عمل کرنے کی تاکید ہونی چاہیئے، دوسرے بعض حقوق ایسے ہیں جو احکام وراثت سے باہر ہیں اور جن کو قاعدہ میں تو بیان نہیں کیا گیا مگر مذہبی اور اخلاقی طور پر انہیں پسند کیا گیا ہے اور اُن کے لیے شریعت نے ۳/ ۱ تک وصیت کر دینے کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔مثلاً اگر وہ چاہے تو کچھ روپیہ غرباء کی بہبودی کیلئے وقف کر دے اور اس کی اپنے رشتہ داروں کو تاکید کر جائے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورة البقرة ، زیر آیت كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ، جلد ۲ صفحه ۳۶۶،۳۶۵) باب ۱ قَوْلُ اللهِ تَعَالَى يُوصِيكُمُ اللهُ فِى اَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اللہ تم کو تمہاری اولاد کے متعلق یہ تاکیدی حکم کرتا ہے کہ مرد کو دو عورتوں کے حصے کے برابر دیا جائے فَإِنْ كُنَ نِسَاءَ فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُنَا اگر دو سے بڑھ کر عورتیں ہی ہوں تو انہیں اس کا دو