صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 531 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 531

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۳۱ ۸۵- کتاب الفرائض ہے اب اس پر کسی عمل کی ضرورت نہیں مگر ہمارے نزدیک قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں۔قرآنی آیات کی منسوخی کا عقیدہ محض قلتِ تدبر کی بنا پر ظہور میں آیا ہے۔جب مسلمانوں کو کسی آیت کا مفہوم پوری طرح سمجھ میں نہ آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ وہ منسوخ ہے اور اس طرح کئی کئی سو آیات تک انہوں نے منسوخ قرار دے دیں۔اگر وہ سمجھتے کہ قرآن کریم کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف قابل عمل ہے تو وہ ہر آیت پر غور کرتے اور اگر اسے حل کرنے سے قاصر رہتے تو خدا تعالیٰ کے حضور جھکتے اور اس سے دعائیں کرتے کہ وہ اُن کی مدد کرے اور اپنے کلام کی حقیقت سمجھنے کی انہیں توفیق عطا فرمائے اور اگر وہ ایسا کرتے تو یقینا اللہ تعالیٰ اُن کی رہنمائی کے سامان پیدا فرما دیتا اور انہیں مشکل آیات کا حل نظر آجاتا مگر انہوں نے بدقسمتی سے یہ آسان رستہ اختیار کر لیا کہ جس آیت کا مطلب سمجھ میں نہ آیا اُسے منسوخ قرار دے دیا۔یہی طریق انہوں نے یہاں بھی اختیار کر لیا ہے مگر اس آیت کے جو معنے ہم کرتے ہیں اگر اس کو مد نظر رکھا جائے تو یہ حکم بڑا ہی پر حکمت نظر آتا ہے اور اسے منسوخ قرار دینے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔درحقیقت یہاں وصیت کا لفظ صرف عام تاکید کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور اس کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے والدین اور اقر بین کے متعلق تو وصیت کرنیکا حکم دیا ہے مگر اولاد کو ترک کر دیا ہے حالانکہ قلبی تعلق کے لحاظ سے اولاد کا ذکر بھی ضرور ہونا چاہیئے تھا۔یہ بات بتاتی ہے کہ یہاں مال کی تقسیم کا مسئلہ بیان نہیں کیا جارہا بلکہ ایک عام تاکید کی جارہی ہے اور اولاد کی بجائے والدین اور اقرنین کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اس آیت کا سیاق و سباق بتا رہا ہے کہ یہ حکم جنگ اور اس کے مشابہ دوسرے حالات کے متعلق ہے۔چنانچہ اس سے چند آیات پہلے الصّبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِيْنَ البائیں میں لڑائی کا ذکر آچکا ہے اسی طرح آگے چل کر وَقَاتِلُوا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَکھ میں پھر جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور چونکہ جنگ میں بالعموم نوجوان شامل ہوتے ہیں جن کے ہاں یا تو اوالاد ہوتی ہی نہیں یا چھوٹی عمر کی ہوتی ہے۔اس لئے والدین اور اقریبین کے حق میں وصیت کرنے کا حکم دیا اور اولاد کا ذکر چھوڑ دیا اور یہ