صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 530 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 530

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۳۰ ۸۵- کتاب الفرائض رکھا ہے۔قرآن کریم نے صاف طور پر حکم دیا ہے کہ کسی شخص کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اس تقسیم کو بدل سکے یا کسی ایک رشتہ دار کو اپنی تمام جائیداد سپر د کر جائے۔اُس کی جس قدر جائیداد ہو گی شریعت جبر آ اس کے تمام رشتہ داروں میں تقسیم کرا دے گی اور ہر ایک کو وہ حصہ دے گی جو قرآن کریم میں اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔“ اسلام کا اقتصادی نظام، انوار العلوم جلد ۱۸ صفحه ۵۶) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تعجب ہے کہ جہاں دنیا سود کی تائید میں ہے حالانکہ وہ دنیا کی بے جوڑ مالی تقسیم کا بڑا موجب ہے وہاں اکثر لوگ جبری ورثہ کے بھی مخالف ہیں اور اس امر کی اجازت دیتے ہیں کہ ایک ہی لڑکے کو مرنے والا اپنا مال دے جائے حالانکہ اس سسٹم سے دولت ایک خاندان میں غیر محدود وقت تک جمع ہوتی جاتی ہے لیکن اسلامی اصولِ وراثت کے مطابق جائیداد خواہ کتنی بڑی ہو تھوڑے ہی عرصہ میں اولاد در اولاد میں تقسیم ہو کر مالدار سے مالدار خاندان عام لوگوں کی سطح پر آجاتا ہے اور اِس حکم کے نتیجہ میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہو سکتا جس کی بڑی سے بڑی جائیداد یا بڑی سے بڑی دولت تین چار نسلوں سے آگے بڑھ سکے۔وہ بمشکل تین چار نسلوں تک پہنچے گی اور پھر سب کی سب ختم ہو جائے گی اور آئندہ نسل کو اس بات کی ضرورت محسوس ہو گی کہ وہ اپنے لئے اور جائیداد پیدا کرے۔" اسلام کا اقتصادی نظام، انوار العلوم جلد ۱۸ صفحه ۵۷،۵۶) كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ المَوت کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے متعلق مرنے والے کو جو وصیت کرنے کا حکم دیا ہے اس کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسی وصیت ہے جس کی تعلیم دی گئی ہے۔جبکہ شریعت نے خود احکام وراثت کو سورۃ نساء میں تفصیلاً بیان کر دیا ہے اور ان کے نزول کے بعد رشتہ داروں کے نام وصیت کرنا بے معنی بن جاتا ہے۔سو اس کے متعلق یا د رکھنا چاہیئے کہ بعض لوگ تو کہتے ہیں کہ وصیت کے احکام چونکہ دوسری آیات میں نازل ہو چکے ہیں اس لئے یہ آیت منسوخ