صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 529 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 529

صحیح البخاری جلد ۱۵ ٠٨٥ ۵۲۹ بسم الله الرحمن الرحيم ٨ - كِتَابُ الْفَرَائِضِ وراثت کے احکام ۸۵- کتاب الفرائض وَهُو جمع فَرِيضَة، وَفِي فِي اللُّغة اسم ما يفرض على المُكلف، وَمِنْه فَرائض الصلوات والزكوات، وسميت أَيْضا الْمَوَارِيث فَرائض وفروضًا لما أنها مقدرات لأصحابها ومبينات في كتاب الله تعالى ومقطوعات لا تجوز الرِّيَادَة عَلَيْهَا وَلَا النُّقْصَانِ مِنْهَا - فرائض فریضہ کی جمع ہے، اس کے لغوی معنی ہیں وہ احکام جو مکلف پر فرض کیے جاتے ہیں۔ان میں نماز کے فرائض اور زکوۃ کے فرائض ہیں، اسی طرح میراث کے احکام کو بھی فرائض کہتے ہیں اور فروض بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ بھی وراثت والوں کیلئے مقرر کیے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ان کا بیان کیا گیا ہے اور یہ احکام قطعی ہیں، ان میں کمی بیشی کرنا جائز نہیں۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۲۲۹) وراثت سے مراد کسی مرنے والے کا ترکہ یعنی وہ مال اور جائیداد ہے(منقولہ ہو یا غیر منقولہ) جو متوفی کے ورثاء میں تقسیم ہوتا ہے۔ورثاء میں اول اور اصل گل چھ ورثاء ہیں۔ماں، باپ، اولاد ( بیٹے، بیٹیاں) خاوند اور بیوی۔قرآنِ کریم نے وراثت میں ان سب کے حصے تقسیم کر دیئے ہیں۔نیز بعض صورتوں میں بہن بھائی بھی وارث بنتے ہیں، ان کا بھی ذکر کیا ہے نیز بتائی اور مساکین کا ذکر کر کے یتیم پوتوں وغیرہ کی طرف اشارہ کیا ہے جو براہ راست وارث نہیں بنتے مگر اُن کا حق اور حالت متقاضی ہوتی ہے کہ انہیں بھی بصورت وصیت حصہ دلایا جائے۔نیز ہر قسم کے امکان بھی بیان کر دیئے ہیں۔بعض امکانات کو قرآنِ کریم نے اجمالاً بیان کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تفصیل و تفسیر بیان فرما دی ہے۔کتاب الفرائض میں امام بخاری نے قرآنِ کریم اور احادیث میں بیان کردہ فرائض کو حسنِ ترتیب اور عناوین ابواب کے ماتحت درج کیا ہے۔نیز بعض جگہ صحابہ، تابعین اور فقہاء کے اقوال و فتاویٰ سے راہنمائی فرمائی ہے۔امام بخاری کتاب الفرائض میں ۴۳ مرفوع، ۳۷ مکرر اور 4 منفر د احادیث لائے ہیں نیز ۲۴ آثار بیان کیے ہیں اور ان کو اس، ابواب میں تقسیم کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۷۰) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وری کا علم شریعت میں اس مرض کے ماتحت رکھا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنی جائیداد کسی ایک شخص کو نہ دے جائے بلکہ وہ اُس کے ورثاء میں تقسیم ہو جائے۔شریعت نے اس تقسیم میں اولاد کا بھی حق رکھا ہے ، ماں باپ کا بھی حق رکھا ہے، بیوی کا بھی حق رکھا ہے، خاوند کا بھی حق رکھا ہے اور بعض حالتوں میں بھائیوں اور بہنوں کا بھی حق