صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 528 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 528

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۲۸ كتاب كفارات الأيمان شریح : الْكَفَّارَةُ قَبْلَ الْحِنْبِ وَبَعْدَهُ: قسم توڑنے سے پہلے اور اس کے بعد کفارہ دینا۔علامہ عینی بیان کرتے ہیں کہ یہ باب قسم توڑنے سے پہلے اور توڑنے کے بعد کفارہ ادا کرنے کے جواز میں ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ امام بخاریؒ اس باب کے تحت جو روایات لائے ہیں، اُن میں صرف قسم توڑنے کے بعد کفارہ ادا کرنے کا ذکر ہے، پہلے کا نہیں۔جبکہ گزشتہ باب میں حماد بن زید کی روایت کے الفاظ اس باب کے مضمون سے واضح مطابقت رکھتے ہیں۔امام بخاری نے گزشتہ باب کی حدیث سے قسم توڑنے سے پہلے کفارہ کا جواز اور زیر باب روایت سے قسم توڑنے کے بعد کفارہ کا ذکر کر کے دونوں باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کر لینے کے متعلق فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔امام مالک، ثوری، لیث اور اوزاعی کے نزدیک قسم توڑنے سے پہلے بھی اس کا کفارہ دیا جا سکتا ہے۔امام احمد اسحاق اور ابو ثور کا بھی یہی موقف ہے۔نیز حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔جبکہ امام شافعی کہتے ہیں کہ (بطور کفارہ) گردن آزاد کرنا، کپڑے پہنانا اور کھانا کھلانات قسم توڑنے سے پہلے جائز ہے لیکن (کفارہ کے روزے پہلے رکھ لینا درست نہیں۔امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ کفارہ قسم توڑنے سے پہلے ادا نہیں ہوتا۔(عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحہ ۲۲۶،۲۲۵)