صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 29 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 29

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۹ ٨٠ - كتاب الدعوات تشریح : النَّوْمُ عَلَى الشق الأيمن : داہنی کروٹ سونا۔ امام بخاری نے اس مضمون کے دو عنوان باب قائم کئے ہیں۔ باب نمبر ۵ کا عنوان ہے الضَّجْعُ عَلَى الشق الأيمن اور یہاں باب نمبر ۹ کا عنوان ہے النَّوْمُ عَلَى الشَّقِ الْأَعْمَنِ۔ اس سے امام بخاری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کا معمول تھا کہ چاہے (الضَّجْع) تھوڑی دیر کے لئے لیٹنا ہو یا ( النوم) زیادہ دیر سونا ہو، آپ دائیں پہلے کو ترجیح دیتے۔ عربی زبان میں میمن برکت کو بھی کہتے ہیں۔ (اقرب الموارد - یمن) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاں تک ممکن ہوتا، آپ اپنا ہر کام داہنی طرف سے شروع کرنا پسند فرمایا کرتے تھے۔ سے روایات میں ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو سونے کے لیے بستر پر تشریف لاتے تو دائیں کروٹ لیٹا کرتے تھے۔ ( باب ۹ روایت نمبر ۶۳۱۵) آپ صحابہؓ کو بھی ایسا ہی کرنے کی نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ ( باب ۶ ، روایت نمبر ۱ ۶۳۱) اس سے یہ مراد نہیں کہ بائیں کروٹ لیٹنا یا سیدھا لیٹنا جائز نہیں۔ یہ بھی آپ کے عمل سے ثابت ہے۔ حضرت عبد اللہ بن زید انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدھے لیٹے ہوئے دیکھا ہے۔ کے اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے تو وہ تین دفعہ اپنی بائیں طرف تھو کے اور تین بار ن بار شیطان سے اللہ اللہ کی پناہ طلب کرے اور جس پہلو پر وہ تھا اُسے بدل کر دوسری طرف کروٹ لے لے۔ علامہ ابن جوزی بیان کرتے ہیں کہ ابتداء کچھ دیر دائیں کروٹ لیٹنا چاہئیے اور پھر بائیں کروٹ ہو جائے کیونکہ پہلی حالت (یعنی دائیں کروٹ لیٹنا کھانے کو ڈھلکانے اور نیچے اُتارنے کا باعث بنتا ہے اور بائیں کروٹ سونا کھانے کو ہضم کرنے میں محمد ہے۔ ( فتح الباری جزءا اصفحہ ۱۳۲، ۱۳۳) لیٹنے کی کیفیات میں سے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے وہ اُلٹا لیٹنا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیٹ کے بل لیٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ اس طرح لیٹنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ کے بلکہ ایک روایت میں تو یہ بھی ذکر ہے کہ حضرت یعیش رضی اللہ عنہ جو اصحاب صفہ میں سے تھے ایک بار اُلٹے لیٹے ہوئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاؤں سے ہلا کر فرمایا: ایسے لیٹنا اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہے۔ 2 ا (صحيح البخاري، كتاب الصلاة، باب التيمن في دخول المسجد وغیره، روایت نمبر ۴۲۶) (صحیح البخاری، کتاب الاستئذان، باب الاستلقاء، روایت نمبر ۶۲۸۷) (صحیح مسلم، کتاب الرؤيا، بابا، روایت نمبر ۵) (سنن الترمذي، أبواب الأدب، باب ما جاء في كراهية الاضطجاع على البطن) ه (سنن ابی داود، کتاب الأدب، أبواب النوم ، باب في الرجل ينبطح على بطنه )