صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 28
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۸ ۸۰- كتاب الدعوات الله الْمُسَيَّبِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ الْبَرَاءِ بیان کیا۔انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔بْنِ عَازِبٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی انہوں نے حضرت براء بن عازب سے روایت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ کی۔وہ کہتے تھے: جب رسول اللہ صلی اہم اپنے نَامَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمُ بچھونے پر آرام فرماتے تو آپ اپنی داہنی کروٹ کے بل سوتے، پھر یہ دعا کرتے : اے اللہ ! میں نے أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ اپنے تئیں تجھے سونپا اور میں نے اپنی توجہ کو تیری ہی طرف پھیرا اور میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا کر دیا اور میں نے اپنی پیٹھ کو تجھ سے سہارا دیا ہے مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ تیری رضامندی کی خواہش رکھتے ہوئے اور تیری بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي ناراضگی سے ڈرتے ہوئے۔کوئی جائے پناہ نہیں اور أَرْسَلْتَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نہ ہی تجھ سے بھاگ کر بیچنے کی جگہ ہے مگر تیرے وَسَلَّمَ مَنْ قَالَهُنَّ ثُمَّ مَاتَ تَحْتَ لَيْلَتِهِ حضور میں ایمان لایا ہوں تیری اس کتاب پر جو مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ۔{قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: تو نے بھیجی اور تیرے اس نبی پر جس کو تو نے بھیجا اسْتَرْهَبُوهُمُ (الأعراف: ۱۱۷) مِنَ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے الرَّهْبَةِ، مَلَكُوتُ (الأنعام : ٧٦) مُلک یہ کلمات کہے اور پھر وہ اسی رات کو مر جائے تو وہ مَثَلُ رَهَبُوتٌ خَيْرٌ مِنْ رَحَمُوتٍ وَيُقَالُ فطرت پر مرے گا۔ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے تُرْهَبُ خَيْرٌ مِّنْ أَنْ تُرْحَمَ } کہا: استَرهَبُوهُمْ (یعنی انہوں نے ان کو مرعوب کرنا چاہا) رَهْبَةً سے ہے۔مَلَكُوت کے معنی ہیں بادشاہت۔(عربی میں یہ ) مثل ہے: رَهَبُوتٌ خَيْرٌ مِّن رَحموت۔(یعنی ڈرایا جانا رحم کیے جانے سے بہتر ہے اور کہا جاتا ہے: تُرهَبُ خَيْرٌ مِنْ أن ترحم یعنی تجھے خوف دلایا جائے یہ اس سے بہتر ہے کہ تجھ پر ترس کھایا جائے۔أطرافه ٢٤٧، ٦٣١١، ٦٣١٣، ٧٤٨٨۔یہ الفاظ صحیح البخاری مطبوعہ آرام باغ کراچی کے ہیں۔( صحیح البخاری جزء ۲ صفحہ ۹۳۴) ترجمہ ان کے مطابق ہے۔