صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 514 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 514

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۱۴ - كتاب كفارات الأيمان لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (المائدة: 9) اس کے متعلق فقہاء کے درمیان ایک بحث یہ ہے کہ کونسی گردن ( غلام ) آزاد کر نا زیادہ بہتر ہے ؟ امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل نے کفارہ قتل کی آیت کے الفاظ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ (النساء:۹۳) پر محمول کرتے ہوئے کفارہ قسم میں بھی مومن گردن کو آزاد کر نازیادہ بہتر قرار دیا ہے جبکہ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب نے معنونہ آیت سے استدلال کیا ہے کہ چونکہ اس آیت میں ایسی کوئی تخصیص نہیں کی گئی ، لہذا قسم کے کفارہ میں کا فر غلام کو آزاد کرنا بھی جائز ہے۔(فتح الباری جزء ۱ ۱ صفحہ ۷۳۰ ) (عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحه ۲۲۰) امام بخاری نے اپنے مخصوص انداز میں فقہاء کی اس بحث کے حل کے لئے عنوان باب میں وائی الرِّقَابِ از گی۔اور کون سے غلام کو آزاد کرنا افضل ہے، سے راہنمائی کی ہے کہ موقع و محل کے مطابق غلام کی حیثیت اور قیمت کا پتہ چلتا ہے۔بعض اوقات ایک غلام اپنی خوبیوں و دیگر کو الف اور موقع کی مناسبت سے زیادہ اہم اور قیمتی ہوتا اور غلام کی قیمت یا اہمیت کی ایک صورت اس کا مسلمان ہوتا ہے اس لئے عنوان باب کے الفاظ وَأَى الرقاب از گی جہاں مطلق ہیں اور کوئی بھی غلام اس کی ذیل میں آسکتا ہے۔اس کی ایک صورت غلام کا مسلمان ہونا بھی ہے جس کی طرف زیر باب روایت سے اشارہ کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُّسْلِمَةٌ أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْرٍ مِنَهُ عُضْرًا مِّن النَّارِ حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِه - جس نے مسلمان گردن کو آزاد کیا اللہ اس کے ہر ایک عضو کے بدلے میں اس کا ایک ایک عضو آگ سے آزاد کر دے گا یہاں تک کہ اس کی شرمگاہ کو بھی اس کی شرمگاہ کے بدلہ میں (آگ سے رہائی دے گا۔) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلامی تعلیم میں بعض غلطیوں اور گناہوں کے کفارہ میں غلام کے آزاد کرنے کا قاعدہ مقرر کیا گیا ہے جسے گویا سفارشی اور جبری طریق کے بین بین سمجھنا چاہیئے چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهَ إلا أن يَضَدَقُوا فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ (النساء: ۹۳) یعنی کوئی شخص کسی مومن کو یونہی غلطی سے قتل کر دے تو اس کی سزا یہ ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا بھی ادا کرے سوائے اس کے کہ اُس کے ورثاء اسے یہ خون بها خود بخود معاف کر دیں اور اگر ایسے شخص کو کوئی غلام آزاد کرنے کے لئے نہ ملے تو دوماہ کے لگاتار روزے رکھے، پھر فرماتا ہے: فَإِن كَانَ مِنْ قَومِ عَدَةٍ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ و ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اللہ تمہیں تمہاری لغو قسموں پر نہیں پڑے گا لیکن وہ تمہیں ان پر پکڑے گا جو تم نے قسمیں کھا کر وعدے کئے ہیں پس اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو اوسطا تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا انہیں کپڑے پہنانا ہے یا ایک گردن آزاد کرنا ہے اور جو اس کی توفیق نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھنے ہوں گے ) یہ تمہارے عہد کا کفارہ ہے جب تم حلف اٹھالو اور (جہاں تک بس چلے ) اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تا کہ تم شکر کرو۔