صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 515
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۱۵ ۸۴ كتاب كفارات الأيمان رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ (النساء : ۹۳) اگر مقتول ایسی قوم میں سے ہے جو مسلمانوں کی دشمن اور اُن سے بر سر پیکار ہے ، لیکن مقتول خود مومن ہو تو پھر قاتل کی صرف یہ سزا ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور اگر وہ کوئی غلام نہ پاوے تو دوماہ کے لگاتار روزے رکھے۔وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيْثَاقَ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ۔إلَى أَهْلِهِ وَ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ (النساء:۹۳) اور اگر مقتول کسی ایسی قوم میں سے ہو جن کے اور تمہارے درمیان عہد و پیمان ہے تو خواہ مقتول کافر ہی ہو ، اس کے قاتل کی سزا یہ ہے کہ وہ مقتول کے وارثوں کو خون بہا ادا کرے اور ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور اگر کوئی غلام نہ پائے تو دوماہ کے لگاتارروزے رکھے۔پھر فرماتا ہے: فَكَفَّارَتْهُ الْعَامُ عَشَرَةِ مَسْكِيْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَثَةِ أَيَّامٍ (المائدة: ۹۰) یعنی اگر کوئی شخص خدا کی قسم کھا کر پھر اسے توڑے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو اپنی حیثیت کے مطابق کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو لباس عطا کرے یا ایک غلام آزاد کرے اور اگر کوئی غلام نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھے۔پھر فرماتا ہے: وَالَّذِينَ يُظْهِرُونَ مِنْ نِّسَا بِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَن يَتَمَاسًا فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ فَمَنْ يَسْتَطعْ فَإِطْعَام ستين مسكينا (المجادلة : ۵،۴) یعنی جو لوگ اپنی بیویوں سے علیحدہ رہنے کا عہد کر لیتے ہیں لیکن پھر کسی وجہ سے انہی کی طرف لوٹنا پڑتا ہے تو ان کا کفارہ یہ ہے کہ وہ ایک غلام آزاد کریں۔اور اگر کوئی غلام نہ پائے تو ایسا شخص دو مہینے کے لگاتار روزے رکھے۔۔۔اور اگر روزوں کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔یہ وہ مختلف صورتیں ہیں جو اسلام نے کفارہ میں غلاموں کے آزاد کئے جانے کی بیان کی ہیں اور اسلام نے حسب عادت ان کے حالات کے اختلاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے دو دو تین تین مقابلہ کی صورتیں تجویز کر کے ان میں مسلمانوں کو اختیار دے دیا ہے کہ جو صورت آسانی کے ساتھ اور بہتر طور پر اختیار کی جاسکے اسے اختیار کر لیا جاوے اور کمال حکمت کے ساتھ ان آیات میں خدا تعالیٰ نے جہاں جہاں بھی غلام کے آزاد کرنے کا ذکر ہے وہاں لاز ما ساتھ ہی یہ الفاظ بھی زیادہ کر دیتے ہیں کہ اگر کوئی غلام نہ پائے تو پھر یہ یہ صورت اختیار کی جاوے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا اصل منشاء یہ تھا کہ بالآخر غلامی کا سلسلہ بالکل مفقود ہو جانا