صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 513
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۱۳ - كتاب كفارات الأيمان زمانہ کے لحاظ سے ان کے اوزان میں فرق بیان کیا ہے۔بعض نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے ایک نڈ کا وزن ۶۲۵ گرام اور بعض نے ۵۱۰ گرام بیان کیا ہے۔اسی طرح ایک صاع کا وزن دو کلو چالیس گرام سے تین کلو گرام تک ( توضيح الأحكام من بلوغ المرام ، كتاب الصيام ، جزء۳ صفحه ۵۱۴) بیان کیا گیا ہے۔(فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام ، كتاب الزكاة ، صدقة الفطر من تجب، جزء ۳ صفحه (۸۸) بَاب ٦ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى اَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ (المائدة: ٩٠) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یا ایک ( غلام کی) گردن کا آزاد کرنا اور کونسی گردنوں کا آزاد کر نازیادہ مناسب ہے ؟ وَأَيُّ الرِّقَابِ أَزْكَى؟ ٦٧١٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ :۶۷۱۵: محمد بن عبد الرحیم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ داؤد بن رشید نے ہمیں بتایا۔ولید بن مسلم نے ہم بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ سے بیان کیا۔ولید نے ابو عنسان محمد بن مطرف مُطَرِّفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَلِي سے ابو غسان نے زید بن اسلم سے، زید نے علی بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ عَنْ بن حسین سے ، علی نے سعید بن مرجانہ سے ، سعید أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت ابوہریرہ سے ، حضرت ابو ہر برڈ نے نبی صل الم سے روایت کی۔آپؐ نے فرمایا: جس نے مسلمان گردن کو آزاد کیا اللہ اس کے ہر ایک عضو کے بدلے میں اُس کا ایک ایک عضو آگ سے آزاد کر دے گا یہاں تک کہ اس کی شرمگاہ کو بھی اس کی شرمگاہ کے بدلہ میں (آگ سے رہائی دے گا۔) وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُّسْلِمَةٌ أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوِ مِنْهُ عُضْوًا مِّنَ النَّارِ حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ۔طرفه: ٢٥١٧۔تشریح : اَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَة : یا ایک (غلام کی ) گردن کا آزاد کرنا۔کفارہ کے لئے غلام کو آزاد کرنے کی دو قسمیں ہیں۔(۱) کفارہ قسم۔اس میں غلام کو آزاد کر نا مطلق ہے یعنی اس میں کوئی تخصیص نہیں کہ کون سا غلام آزاد کیا جائے۔(۲) کفارہ قتل خطا۔اس کفارہ میں یہ پابندی ہے کہ جس غلام کو آزاد کیا جائے وہ مؤمن ہو۔کفارہ قسم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِالغُونَ ايْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُ كُمْ بِمَا عَقَدْ تُم الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتْهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسكِيْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَثَةِ أَيَّامٍ ، ذَلِكَ كَفَّارَةٌ اَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَلَتِهِ