صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 27 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 27

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۷ ۸۰- كتاب الدعوات باعث یہ ہے کہ اگر عشاء کی نماز کے بعد باتیں شروع کر دی جائیں گی تو انسان زیادہ جاگے گا اور صبح کو دیر کر کے اُٹھے گا۔اور دوسرے یہ کہ اگر وہ باتیں دینی اور مذہبی نہ ہوں گی تو ان کی وجہ سے توجہ دین سے ہٹ جائے گی۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عشاء کی نماز کے بعد بغیر کلام کئے سو جانا چاہیئے تاکہ دینی خیالات پر ہی آنکھ لگے اور سویرے کھل جائے۔دفتر کے کام یا اور کوئی ضروری فعل عشاء کی نماز کے بعد منع نہیں۔مگر یہ ضروری ہے کہ سونے سے پہلے ذکر کر لے۔“ ذکر الہی، انوار العلوم جلد ۳ صفحه ۵۱۲) بَاب : وَضْعُ الْيَدِ تَحْتَ الْحَدِ الْيُمْنَى (دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھنا ٦٣١٤ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۶۳۱۴ موسیٰ بن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد الملک سے ، اللهُ عَنْهُ عبد الملک نے ربعی سے ، ربعی نے حضرت حذیفہ عَنْ رِبْعِيِّ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رَضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اپنے بستر پر لیٹتے تو وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ حَدِهِ ثُمَّ يَقُولُ آپ اپنے ہاتھ کو اپنے رخسار کے نیچے رکھتے۔پھر دعا کرتے : اے اللہ ! تیرے نام سے ہی میں مرتا اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أُمُوتُ وَأَحْيَا وَإِذَا ہوں اور جیتا ہوں اور جب آپ جاگتے تو دعا اسْتَيْقَظَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي کرتے : سب حمد اللہ ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ۔زندہ کیا بعد اس کے کہ ہمیں مارا تھا۔اور اسی کی طرف اُٹھ کر جانا ہے۔أطرافه: ٦٣١٢، ٦٣٢٤، ٧٣٩٤۔باب ۹ : النَّوْمُ عَلَى الشَّقِ الْأَيْمَنِ داہنی کروٹ سونا ٦٣١٥ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ :۶۳۱۵ مسدو نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الواحد الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ بن زیاد نے ہمیں بتایا۔علاء بن مسیب نے ہم سے