صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 512
صحیح البخاری جلد ۱۵ وَصَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ۔أطرافه: ۷۳۳۱ ،۲۱۳۰ ۵۱۲ برکت دیجیو۔۸۴ كتاب كفارات الأيمان تشريح : صَاعُ الْمَدِينَةِ وَمُنُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مدینہ والوں کا ا اور نبی صل اللہ علیہ وسلم کا نق۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مد کی مقدار ۱۳۳، رطل تھی اور صاع نبوی کی مقدار ۵۔۳۳، رطل تھی۔بنو امیہ کے دور میں ہشام نے ایک مد کا پیمانہ جاری کیا۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے دو تہائی رطل بڑا تھا۔حضرت ابن عمر بنو امیہ کے اس مذ کو اہمیت نہیں دیتے تھے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مد کو ہی اختیار کرتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع کو صاع حجازی اور بنو امیہ کے صاع کو صاع بغدادی یا عراقی کہا جاتا ہے۔صاع عراقی صاع حجازی سے ایک تہائی بڑا ہے۔احناف نے بنو امیہ کے ایجاد کردہ مد اور صاع کو معیاری قرار دیا ہے جبکہ محدثین صاع حجازی کو سٹینڈرڈ پیمانہ قرار دیتے تھے۔اس کے متعلق ایک دلچسپ واقعہ سنن الکبریٰ میں درج ہے۔حسین بن ولید قرشی نے بیان کیا: حج سے فارغ ہونے کے بعد ہمارے پاس امام ابو یوسف آئے اور کہا: میں تمہیں ایک نہایت اہم علمی بات بتاتا ہوں۔اس کے متعلق میں نے خوب تحقیق کی ہے۔واقعہ یوں ہے کہ میں نے مدینہ جا کر لوگوں سے صاع کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے کہا: ہمارا صارع وہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔میں نے اس کی دلیل مانگی۔کہنے لگے: ہم کل اس کا ثبوت دیں گے۔اگلے روز انصار اور مہاجرین کی اولاد میں سے پچاس کے قریب بزرگ میرے پاس آئے۔ہر ایک کی چادر کے نیچے صاع تھا۔ہر ایک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اس صاع کی سند بیان کی۔میں نے دیکھا تو وہ سب صاع برابر تھے۔میں نے ان کا وزن کیا تو ہر ایک صاع ۳۳۔۵، رطل تھا۔اس کے بعد میں نے اہل مدینہ کے قول کو صحیح اور قومی سمجھا اور حنفی مسلک چھوڑ کر اس کو اختیار کر لیا۔علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں: اس باب سے امام بخاری نے اشارہ کیا ہے کہ کفارہ کی ذیل میں جو مساکین کو کھانا کھلانے کا ذکر ہے، اس کی ادائیگی اہل مدینہ کے صاع کے مطابق ہوگی کیونکہ آغاز میں شرعی احکام کا وقوع اسی کے مطابق ہوا تھا۔(فتح الباری جزءا اصفحہ ۷۲۸) اس بارہ میں فقہاء کے دو اقوال ہیں۔امام مالک اور امام شافعی کا قول یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مد کے مطابق ہر مسکین کو ایک ایک مذ ( اناج) دیا جائے گا، جبکہ اہل عراق کا موقف یہ ہے کہ ہر مسکین کو دو دو نڈ (یعنی نصف صاع) دیا جائے گا۔(شرح صحیح البخاری لابن بطال، جزء ۶ صفحه ۱۷۴) صاع اور مذ عرب میں استعمال ہونے والے دو پیمانے تھے۔حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کی معنونہ روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک صاع ایک مذ اور تہائی نذ ( یعنی 1۔33 مذا) کے برابر تھا۔(روایت نمبر ۶۷۱۲) جبکہ جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع چار نڈ کے برابر تھا۔فقہاء نے موجودہ ل (السنن الكبرى للبيهقي، بجماعُ أَبْوَابِ رَكَاةِ الْفِطرِ ، بَاب مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ صَاعَ النَّبِيِّ ﷺ كَانَ عِيَارُهُ خَمْسَةٌ أَرْطَالٍ وَثله، جلد ۴ صفحه ۲۸۶)