صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 26 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 26

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۶ ۸۰ - كتاب الدعوات قرآن کریم کا جس کو حدیث میں مختلف دعاؤں میں ڈھالا جا رہا ہے کہ ہم ایسی حالت میں جارہے ہیں کہ موت سے کچھ مشابہت ہو رہی ہے اور موت سے تعلق میں سب سے زیادہ پہلا خیال انسان کو قبر کے عذاب یا آگ کے عذاب کا آنا چاہیے کیونکہ یہی دو بد انجام ہیں جو انسان کو موت کے بعد ملا کرتے ہیں۔تو بد انجام سے پناہ کے وقت پناہ حاصل کرنے کے لئے بہت ہی اچھا موقع ہے کہ سونے سے پہلے انسان یہ دعائیں کرے۔پھر اسی کیفیت کی ایک اور دعا کتاب الدعوات ہی میں حذیفہ ابن الیمان سے مروی ہے۔وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو کہتے : اے اللہ ! تیرے نام کے ساتھ مرتا ہوں اور تیرے نام کے ساتھ جیتا ہوں۔یہاں بھی وہی مضمون ہے کہ ایک عارضی موت میں سے انسان گزرنے والا ہے جو مستقل بھی ہو سکتی ہے کوئی پتا نہیں کہ پھر اُٹھیں گے کہ نہیں اُٹھیں گے۔تو ہر دفعہ جب سونے لگے تو انسان موت کو ضرور یاد کرے اور موت سے پہلے جس طرح انسان گھبراہٹ میں دعائیں مانگتا ہے اور دنیا کو بھلا کر سب سے زیادہ خدا کی ناراضگی کے خوف سے بچنے کے لئے استغفار کرتا ہے وہی کیفیت ہر رات کو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر طاری ہوتی تھی۔باوجود اس کے کہ آپ کو ہر عذاب سے پناہ دی جاچکی تھی۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے بارے میں ایسی احتیاط فرماتے تھے کہ عارضی موت سے پہلے بھی خدا تعالیٰ کی طرف گریہ وزاری سے متوجہ ہوتے اور آگ کے عذاب سے بچنے کی دعائیں کرتے تھے تو ایک عام گنہگار انسان کے لئے تو ہزار گنا زیادہ یہ واجب ہے کہ موت کے مشابہ ہر کیفیت سے پہلے وہ استغفار سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کرے اور آگ کے عذاب سے پناہ مانگے۔“ خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرمودہ کے جنوری ۱۹۹۴، جلد ۱۳ صفحه ۱۳، ۱۴) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عشاء کی نماز پڑھ لینے کے بعد کسی سے کلام نہ کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد کلام کرنے سے روکا ہے۔گو یہ بھی ثابت ہے کہ بعض دفعہ آپ کلام کرتے رہے ہیں۔مگر عام طور پر آپ نے منع فرمایا ہے۔اس کا