صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 501
صحیح البخاری جلد ۱۵ يَزِيدُ عَلَيْهِ۔۵۰۱ - كتاب الأيمان والنذور حکم دیا ہے اور ہمیں عید الا ضحی کے دن روزہ رکھنے سے روکا گیا ہے۔اُس نے ان سے پوچھا تو حضرت عبد اللہ نے وہی جواب دیا، اس سے زیادہ اس کو أطرافه: ١٩٩٤، ٦٧٠٥۔نہیں بتاتے تھے۔تشريح : مَنْ نَّذَرَ أَنْ يَصُومَ أَيَّامًا فَوَافَقَ النَّحْرَ أَوِ الْفِطْرَ: جس نے یہ منت مانی ہو کہ وہ کچھ دن روزہ رکھے گا اور اتفاق سے اس کا روزہ عید الاضحی یا عید الفطر کے دن آجائے۔علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری کا مقصد اس باب کو قائم کرنے سے یہ ہے کہ کیا اس کا روزہ رکھنا جائز ہوگا یاوہ اس کے بدل کے طور پر کسی اور دن روزہ رکھے گا یا اُسے (اس کا) کفارہ ادا کرنا ہو گا؟ عیدین کے دنوں میں روزہ رکھنے کی ممانعت کی احادیث واضح ہیں۔لہذا افقہاء کا اس بارے میں اجماع ہے کہ عیدوں کے دن میں کسی قسم کا بھی روزہ خواہ وہ نفلی ہو یا نذر کا ہو، رکھنا جائز نہیں۔اور جہاں تک نذر کا تعلق ہے تو جمہور کے نزدیک تو یہ نذر واقع ہی نہیں ہوتی جبکہ حنابلہ کے نزد یک نذر واقع ہو جاتی ہے لہذا اس کی قضاء ادا کرنا واجب ہے۔(فتح الباری جزء ۱۱ صفحہ ۷۲۰۷۱۹) باب ۳۳ هَلْ يَدْخُلُ فِي الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ الْأَرْضُ وَالْغَنَمُ وَالزَّرِعُ وَالْأَمْتِعَةُ کیا قسموں اور نذروں میں زمین اور بکریاں اور کھیتیاں اور اسباب بھی داخل ہوتے ہیں وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ اور حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے: حضرت عمر نے نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتُ أَرْضًا صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: مجھے ایک ایسی زمین ملی لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ مِنْهُ قَالَ ہے کہ اس سے عمدہ جائیداد میں نے کبھی نہیں پائی۔إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اس کے اصل کو روک رکھو اور اس کی پیداوار کو صدقہ میں دے دو اور حضرت ابو طلحہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری جائیدادوں میں سے مجھے سب سے پیاری جائیداد بیرحاء ہے۔ان کا ایک باغ تھا جو مسجد کے بِهَا۔وَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ لِحَائِطٍ لَهُ مُسْتَقْبِلَةِ الْمَسْجِدِ۔سامنے واقع تھا۔٦٧٠٧ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي ۶۷۰۷: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے