صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 501
صحیح البخاری جلد ۱۵ يَزِيدُ عَلَيْهِ۔ أطرافه: ١٩٩٤، ٦٧٠٥ - ۵۰۱ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور حکم دیا ہے اور ہمیں عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے سے روکا گیا ہے۔ اُس نے ان سے پوچھا تو حضرت عبد اللہ نے وہی جواب دیا، اس سے زیادہ اس کو نہیں بتاتے تھے۔ تشريح : مَنْ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ أَيَّامًا فَوَا ا فَوَافَقَ النَّحْرَ أَوِ الْفِطر: جس نے یہ منت مانی ہو کہ وہ کچھ دن روزہ رکھے گا اور اتفاق سے اس کا روزہ عید الاضحیٰ یا عیدال الاضحیٰ یا عید الفطر کے دن آجائے۔ دن آجائے۔ علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری کا مقصد اس باب کو قائم کرنے سے یہ ہے کہ کیا اس کا روزہ رکھنا جائز ہو گا یا وہ اس کے بدل کے طور پر کسی اور دن روزہ رکھے گا یا اسے (اس کا کفارہ ادا کرنا ہو گا ؟ عیدین کے دنوں میں روزہ رکھنے کی ممانعت کی احادیث واضح ہیں۔ لہذا افقہاء کا اس بارے میں اجماع ہے کہ عیدوں کے دن میں کسی قسم کا بھی روزہ خواہ وہ نقلی ہو یا نذر کا ہو، رکھنا جائز نہیں۔ اور جہاں تک نذر کا تعلق ہے تو جمہور کے نزدیک تو یہ نذر واقع ہی نہیں ہوتی جبکہ حنابلہ کے نزدیک نذر واقع ہو جاتی ہے لہذا اس کی قضاء ادا کرنا واجب ہے۔ ( فتح الباری، جزءا اصفحہ ۷۱۹، ۷۲۰) باب ۳۳ هَلْ يَدْخُلُ فِي الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ الْأَرْضُ وَالْغَنَمُ وَالزَّرْعُ وَالْأَمْتِعَةُ کیا قسموں اور نذروں میں زمین اور بکریاں اور کھیتیاں اور اسباب بھی داخل ہوتے ہیں وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ اور حضرت ابن عمر کہتے تھے: حضرت عمرؓ نے نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتُ أَرْضًا صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: مجھے ایک ایسی زمین ملی لَمْ أَصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ مِنْهُ قَالَ ہے کہ اس سے عمدہ جائیداد میں نے بھی نہیں پائی۔ إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ آپؐ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اس کے اصل کو روک بِهَا۔ وَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ رکھو اور اس کی پیداوار کو صدقہ میں دے دو اور حضرت ابو طلحہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ میری جائیدادوں میں سے مجھے سب سے پیاری لِحَائِطٍ لَهُ مُسْتَقْبِلَةِ الْمَسْجِدِ۔ جائیداد بیرحاء ہے۔ ان کا ایک باغ تھا جو مسجد کے سامنے واقع تھا۔ ٦٧٠٧: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي ۶۷۰۷: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے