صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 499 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 499

صحیح البخاری جلد ۱۵ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ۔ ۴۹۹ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور بات کرے گا اور روزہ رکھے گا۔ نبی صلی اللہ علیم نے فرمایا: اس سے کہو کہ وہ بات کرے اور سایہ میں بھی جائے اور بیٹھے بھی اور اپنا روزہ پورا کرے۔ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عبد الوہاب (ثقفی) نے یوں سند بیان کی کہ ہم سے عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ایوب نے بیان کیا۔ انہوں نے عکرمہ سے ، عکرمہ وَسَلَّمَ۔ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ تشريح : النَّذُرُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَفِي مَعْصِيَةِ: ایسی بات میں نذر ماننا جسکا وہ مالک نہیں ہے نیز اللہ کی نافرمانی کی نذر ماننا۔ زیر باب روایات میں ایسی تمام نذروں کو ناپسند کیا گیا ہے جو ایسی چیزوں کی ہوں جن کا انسان ما کا انسان مالک نہیں یا معصیت کی یا نیکی کے نام پر اپنے آپ کو اذیت دینے والی والی ہوں۔ اسلام مذہب۔ اسلام مذہب کے اس تصور کو رڈ کرتا ہے جو متشددانہ رویوں سے پروان چڑھے اور ان تمام افعال (Activities) کو منع کرتا ہے جو محض تکلیف اور مشقت پر مبنی ہوں اور ان کا مذہب یا عبادت کی روح سے کوئی تعلق نہیں۔ جیسے بعض مذاہب میں یہ عبادت اور نیکی سمجھی جاتی ہے کہ گھنٹوں پانی میں کھڑے رہنا یا ایک بازو کھڑا کر دینا وغیرہ۔ اسلام ان منشد دانہ کارروائیوں کو سختی سے منع کرتا ہے اور فطرت انسانی کے مطابق افعال اور اعمال بجالانے کی تعلیم دیتا ہے۔ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَرَهُمْ ، أَمَرَهُمْ مِنَ الأَعْمَالِ بِمَا يُطِيقُونَ، قَالُوا : إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا رسُولَ اللهِ ، إِنَّ اللهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَرَ ، فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ بِاللهِ أَنَا - حضرت عائشہ سے مروی ہے۔ وہ فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی صحابہ کو کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے تو آپ صرف انہیں ایسے کاموں کا حکم دیتے جن کو وہ کر سکتے۔ صحابہؓ کہتے: یا رسول اللہ ! ہم تو آپ جیسے نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اگلی اور پچھلی کو تاہیاں معاف کر دی ہیں۔ اس بات پر آپ کو اتنارنج ہوتا کہ آپ کے چہرہ سے ظاہر ہوتا۔ پھر آپ فرماتے کہ تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے والا اور سب سے زیادہ عارف باللہ میں ہوں۔ نیز فرمایا: إِنَّ الدِّينَ يُسْرُ ، وَلَنْ يُشَادُ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا ربُوا ، وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا ، بِالْغَدُوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ دین تو آسان ہے اور جو کوئی بھی دین میں حد سے بڑھے گا تو دین اس کو مغلوب کر دے گا۔ اس لئے ٹھیک راہ چلو اور حدود کے قریب قریب رہو اور خوش رہو اور صبح و شام دعا و ذکر سے اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرتے رہو اور ایسا ہی کچھ پچھلی رات کو بھی۔ ا۔ (صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِالله، روایت نمبر ۲۰) (صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب الدين يسر ، روایت نمبر (۳۹)