صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 496
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۹۶ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ بتایا۔شعبہ نے ابو بشر سے روایت کی، کہا: میں نے جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سعيد بن جبیر سے سنا۔انہوں نے حضرت ابن قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔حضرت ابن وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ عباس نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى پاس آیا اور آپ سے کہنے لگا کہ میری بہن نے حج اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنْ کرنے کی نذر مانی تھی وہ فوت ہوگئی ہے۔نبی صلی اللہ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاقْضِ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس پر کوئی قرضہ ہو تاتو کیا تم اسے ادا کرتے ؟ اس نے کہا: ہاں۔آپ نے اللَّهَ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ۔أطرافه: ١٨٥٢، ٧٣١٥۔فرمایا: اللہ کا حق ادا کرو۔وہ زیادہ لائق ہے کہ اس کے حق کو پورا کیا جائے۔تشریح : مَن مَّاتَ وَعَلَيْهِ نَذَرُ: اگر کوئی مر جائے اور اس کے ذمے کوئی نذر ہو تو کیا اس کی طرف سے اس نذر کو پورا کیا جائے گا یا نہیں ؟ نذر تو قرض کی طرح ہے جو انسان خود اپنے اوپر مقرر کر لیتا ہے۔اگر اس کی وفات ہو جائے اور وہ کوئی قرض یا نذر پوری نہ کر سکے تو اس کے ورثاء اس قرض یا نذر کے پورا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔فوت شدہ کے لئے نماز پڑھنا، روزہ رکھنا، حج کر ناور ثناء کے ذمہ نہیں ہے۔ان فرائض کا تعلق اس کی ذات تک تھا جس کا وہ اپنے رب سے عہد کر لیتا ہے جیسا کہ سید الاستغفار کی دعا کے یہ الفاظ ہیں: وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ ما استطعت لے یعنی میں تیرے عہد اور تیرے وعدے پر قائم ہوں جہاں تک میں طاقت رکھتا ہوں۔اور انسان اس عہد اور وعدے کو تادم واپسیں پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر قرض یا نذر یہ عہد نہیں بلکہ معاہدہ ہے جس میں وہ دوسرے فریق کے ساتھ معاملہ طے کرتا ہے۔اس لئے قرض یا نذر کا معاہدہ اس کے ورثاء کے لئے پورا کرنا ضروری ہے۔علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ باب کا نفسِ مضمون تو یہی تقاضا کرتا ہے کہ ایسی نذر کو پورا کیا جائے گا۔(فتح الباری جزء ۱۱ صفحہ ۷۱۱) لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنتَ قَاضِيَة: علامہ عینی لکھتے ہیں کہ نبی کریم نے وفات یافتہ کی طرف سے نذر کو پورا کرنے کے متعلق قرض کی ادائیگی کی مثال دے کر اُمت کے سامنے نذر کو قرض پر قیاس کیا ہے اور اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرض کی ادائیگی یعنی نذر کو پورا کر ناز یادہ ضروری ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحه ۲۱۱) (صحيح البخاري، كتاب الدعوات، باب أَفَضَلِ الاستغفار ، روایت نمبر ۶۳۰۶)