صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 495 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 495

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۹۵ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور اور نافرمانی سے متعلقہ نذر یا قسم کو پورا نہیں کیا جائے گا۔وہ کہتے ہیں کہ کافر کے افعال چونکہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لیے نہیں ہوتے اور غیر اللہ کی عبادت ہی اس کا مقصود ہوتی ہے اس لیے اس کی ایسی نذر بھی معصیت میں ہی داخل ہوتی ہے لہذا اس پر کچھ بھی واجب نہیں ہے۔اور معنونہ حدیث میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو أَوْفِ بتدرِك فرمایا ہے تو آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نذر کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ہونے کی وجہ سے پورا کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحہ ۲۰۹) باب ۳٠: مَنْ مَّاتَ وَعَلَيْهِ نَدْرٌ اگر کوئی مرجائے اور اس کے ذمے کوئی نذر ہو وَأَمَرَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَةً جَعَلَتْ أُمُّهَا عَلَی اور حضرت (عبد اللہ ) ابن عمر نے ایک عورت کو نَفْسِهَا صَلَاةً بِقُبَاءٍ فَقَالَ صَلّي عَنْهَا تاکید کی جس کی ماں نے اپنے ذمے مسجد قبا میں نماز پڑھنے کی منت مانی تھی، ( تاکید کرتے ہوئے) کہا: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ۔تم اس کی طرف سے نماز پڑھو۔اور حضرت ابن عباس نے بھی ایسا ہی کہا۔٦٦٩٨: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۷۶۹۸: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی، عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ کہا: عبید الله بن عبد اللہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ عبد الله بن عباس نے انہیں بتایا کہ حضرت سعد الْأَنْصَارِيُّ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى الله بن عبادہ انصاری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو اُن کی ماں کے ذمہ تھی فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَأَفْتَاهُ أَنْ اور وہ پیشتر اس کے کہ اس نذر کو پورا کرتی فوت ہو گئی تو آپ نے اُن کو حکم دیا کہ وہ اس کی طرف يَقْضِيَهُ عَنْهَا فَكَانَتْ سُنَّةٌ بَعْدُ۔سے نذر پوری کریں۔تو اس کے بعد یہی طریقہ أطرافه : ٢٧٥٦، ٢٧٦١، ٢٧٦٢، ٦٩٥٩۔جاری ہو گیا۔٦٦٩٩: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۶۷۹۹: آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں