صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 25
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۵ ۸۰ - كتاب الدعوات ٦٣١٣ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبيع ۶۳۱۳: سعيد بن ربیع اور محمد بن عرعرہ نے ہم سے وَمُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بیان کیا۔ان دونوں نے کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ انہوں نے ابو اسحاق سے روایت کی۔(ابو اسحاق عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے کہا : میں نے حضرت براء بن عازب سے سنا وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا ح۔کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا۔وَ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا نیز آدم نے (بھی) ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ ہمیں بتایا۔ابو اسحاق ہمدانی نے ہم سے بیان کیا۔عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہوں نے حضرت براء بن عازب سے روایت کی وَسَلَّمَ أَوْصَى رَجُلًا فَقَالَ إِذَا أَرَدْتَ که نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو (یہ) مَضْجَعَكَ فَقُلْ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وصیت کی۔آپ نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر جاؤ نَفْسِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ تو یوں دعا کرو: اے اللہ ! میں نے اپنے آپ کو وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ تیرے سپرد کیا اور میں نے اپنا معاملہ تجھے سونپ دیا اور میں نے اپنی توجہ کو تیری ہی طرف پھیرا ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا اور میں نے تیری ناراضگی سے ڈرتے ہوئے اور مَلْجَا وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ تیری رضامندی کی امید کرتے ہوئے تجھے ہی آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ اپنا پشت پناہ بنایا۔نہ تو کوئی جائے پناہ ہے اور نہ تجھ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مُتَّ مُتَّ عَلَی سے بچ کر نجات کی کوئی جگہ ہے مگر تیرے ہی حضور میں ایمان لایا تیری اُس کتاب پر جو تو نے اُتاری اور تیرے اس نبی پر جو تو نے بھیجا۔تو پھر الْفِطْرَةِ۔اگر تم مر جاؤ تو تم فطرت پر مرو گے۔أطرافه: ٢٤٧، 63١١، 6315، 7488۔تشریح : مَا يَقُولُ إِذا نام : کیا ہے جب سوئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے ایک موقع پر سونے کے وقت کی مختلف دعاؤں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: سونے سے پہلے چونکہ انسان پر ایک قسم کی موت طاری ہونے والی ہوتی ہے۔اللہ يَتَوَى الأَنفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتُ فِي مَنَامِهَا ( الزمر : ۴۳) یہی مضمون ہے