صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 493
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۹۳ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور يُؤْتَمَنُونَ وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ بار یاتین بار ذکر کیا، پھر اس کے بعد ایسے لوگ آئیں وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ۔ گے جو نذریں مان مانیں گے اور پوری نہیں کریں گے اور خیانت کریں گے اور انہیں امین نہ سمجھا جائے گا اور گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی نہیں أطرافه: ٢٦٥١، ٣٦٥٠، ٦٤٢٨۔ طلب کی جائے گی اور ان میں موٹا پا نمایاں ہو گا۔ تشريح : إِثْمُ مَنْ لا تفي بالنار : اس شخص کا گناہ جو در کو پورا نہیں کرتا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کچھ فرض وہ ہوتے ہیں جو انسان اپنے پر خود مقرر کر لیتا ہے اور پھر وہ بھی ایسے ہی ضروری ہو جاتے ہیں جیسے خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ فرائض۔ فقہاء نے اس پر بحث کی ہے کہ نفل ضروری نہیں لیکن اگر کوئی شخص ارادہ کرلے تو وہ بھی اس کے لئے فرض ہو جاتے ہیں۔ جب کوئی شخص نذر مان لے تو پھر اس کا ادا کرنا اس کے لئے فرض ہی ہو جاتا ہے کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ہر وہ چیز جو نفل ہے جب اپنے اوپر واجب کر لی جائے تو وہ بھی فرائض و واجبات میں شامل ہو جاتی ہے اور اس کا پورا کرنا ایسا ہی ضروری ہو جاتا ہے جیسے خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ فرائض کا۔“ (خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۲۶ / اپریل ۱۹۲۹، جلد ۱۲ صفحه ۱۰۴) بَاب ۲۸ : النَّذْرُ فِي الطَّاعَةِ فرمانبرداری کی نذر ماننا وَمَا أَنْفَقْتُم مِّنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُم مِّنْ (اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) جو خرچ تم کر دیا جو نذر تم نَذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ مانو تو اللہ تو اسے جانتا ہی ہے اور ظالموں کا کوئی بھی أَنْصَارٍ (البقرة: (۲۷۱)۔ مدد گار نہیں۔ ٦٦٩٦ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ٢٦٩٦ : ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مَالِكٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ ہمیں بتایا۔ انہوں نے طلحہ بن عبد الملک سے ، طلحہ