صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 492 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 492

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۹۲ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور نذر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے نا پسند فرمایا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ سے ایک قسم کا ٹھیکہ ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ٹھیکہ کرنا کوئی پسندیدہ امر نہیں۔انسان کو چاہیئے کہ وہ اس کی بجائے صدقہ و خیرات اور دعاؤں سے کام لے۔ہاں اگر کوئی شخص صدقہ و خیرات اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ کوئی نذر بھی شکرانہ کے طور پر مان لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔میں یہ استنباط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک عمل سے کرتا ہوں۔آپ بعض دفعہ اُن لوگوں کو جو آپ سے دعا کے لئے عرض کرتے تھے فرمایا کرتے تھے کہ میں دعا کروں گا۔آپ اپنے دل میں خدمت دین کے لئے کوئی رقم مقرر کر لیں جسے اس کام کے پورا ہونے پر آپ خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شکرانہ کے طور پر اگر کوئی نذر مان لی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اُس نذر کے ساتھ ساتھ دعاؤں اور گریہ وزاری اور صدقات و خیرات سے بھی کام لیا جائے۔66 ( تفسیر کبیر ، تفسير سورة البقرة، آيت وَمَا انْفَقْتُم مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ ، جلد ۲ صفحہ ۶۲۰) باب ۲۷: إِثْمُ مَنْ لَّا يَفِي بِالنَّذْرِ اس شخص کا گناہ جو نذر کو پورا نہیں کرتا ٦٦٩٥: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ ۲۷۹۵: مسدد نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے بیچی سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ بن سعيد ( قطان) سے، بچی نے شعبہ (بن حجاج) حَدَّثَنَا زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِبٍ قَالَ سَمِعْتُ سے روایت کی، کہا: ابوجمرہ نے مجھ سے بیان کیا عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ کہ زہرم بن مضرب نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے حضرت عمران بن حصین سے سنا۔وہ نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُكُمْ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا: قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جو میرے زمانے میں يَلُونَهُمْ - قَالَ عِمْرَانُ لَا أَدْرِي ذَكَرَ ہیں۔پھر وہ لوگ جو ان کے معا بعد آئیں گے ، پھر ثِنْتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا بَعْدَ قَرْنِهِ - ثُمَّ يَجِيءُ وہ جو اُن کے معا بعد آئیں گے۔حضرت عمران کہتے قَوْمٌ يَنْذِرُونَ وَلَا يَفُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا تھے میں نہیں جانتا آپ نے اپنے زمانہ کے بعد دو