صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 491
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۹۱ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور ٦٦٩٤: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۶۶۹۴ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ نے ہمیں خبر دی۔ابوالزناد نے ہمیں بتایا۔ابوالزناد عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ سے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْتِي ابْنَ آدَمَ روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے النَّذْرُ بِشَيْءٍ لَمْ يَكُنْ قُدِرَ لَهُ وَلَكِنْ فرمایا: نذر ابن آدم کا کچھ بھی نہیں کرتی جو اس کے يُلْقِيهِ النَّذْرُ إِلَى الْقَدَرِ قَدْ قُدِرَ لَهُ لئے مقدر نہ ہو بلکہ نذر اس کو اس تقدیر کے حوالے فَيَسْتَخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ فَيُؤْتِي کر دیتی ہے جو اس کے لئے مقدر کی گئی ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ اللہ بخیل سے کچھ نکالتا ہے اور وہ اللہ کی خاطر وہ کچھ دیتا ہے جو پہلے اس کی خاطر عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ يُؤْتِي عَلَيْهِ مِنْ قَبْلُ۔طرفه: ٦٦٠٩ - تشریح : الْوَفَاءُ بِالنَّذْرِ: نذر پوری کرنا۔دینے کا نہیں تھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: يُوفُونَ بِالنَّذْرِ۔مومن نذر کو پورا کرتے ہیں یعنی جب کسی خیرات یا نیک عمل کا عہد کرتے ہیں کہ رڈ بلا یا حصولِ مقصود کے بعد کریں گے تو اس عہد کو پورا کرتے ہیں۔صلحاء امت میں سے جو بڑے پایہ کے صلحاء گزرے ہیں ان کا خیال ہے کہ گو نذر کا پورا کرناضروری ہے کیونکہ وہ ایک عہد ہے جو بندہ خد اتعالیٰ سے کرتا ہے لیکن اس طرح عہد کرنے سے کہ اگر خدا تعالیٰ فلاں مصیبت کو ٹلا دے تو اس اس قدر صدقہ کروں گا، یہ بہتر ہے کہ پہلے ہی صدقہ کر کے اللہ تعالیٰ پر توکل کرلے بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ سے سودا کرنے کی کوشش کرے اور یہ خیال ان کا درست اور صحیح ہے۔“ نیز فرمایا: ( تفسیر کبیر، تفسیر سورة البقرة، جلد اوّل صفحہ ۱۲۸) نذر کے متعلق حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا۔ہاں اگر کوئی نذر مانی جائے تو پھر اُس کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔(الدهر : ۸)