صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 488
صحیح البخاری جلد ۱۵ (المائدة: ۸۸)۔ ۴۸۸ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور کرو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیں۔ ٦٦٩١ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۶۹۱ : حسن بن محمد (بن صباح) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ کیا کہ حجاج (بن محمد ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ جریج سے روایت کی، کہا: عطاء بن ابی رباح) نے گمان کیا کہ انہوں نے عبید بن عمیر سے سنا۔ وہ کہتے يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ تھے : میں نے حضرت عائشہ سے سنا۔ حضرت عائشہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُتُ خیال کرتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَيَشْرَبُ زینب بنت ۔ ت جحش کے پاس ٹھہرا کرتے اور ان کے عِنْدَهَا عَسَلًا فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ ہاں شہر پیا کرتے تھے اس لئے میں نے اور حفصہ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ نے آپس میں یہ ایکا کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ یوں کہے: میں آپ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى سے بینگ کے کی بو محسوس کرتی ہوں، آپ نے ہینگ إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَا بَلْ کھائی ہے۔ آپؐ ان میں سے ایک کے پاس آئے اور اس نے آپ سے یہ کہا۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے ہاں شہد پیا ہے وَلَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ اور اب میں اسے کبھی نہیں پیوں گا۔ اس لئے یہ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ (التحريم : ۲) آیت نازل ہوئی: يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ إِن تَتُوبَا إِلَى الله (التحريم : ٥) لِعَائِشَةَ اللهُ لَكَ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ " میں خطاب وَحَفْصَةَ، وَ إِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ سے ہے۔ وراد اسر ا مغافیر: یہ لفظ مغفور کی جمع ہے۔ مغفور گوند کی ایک قسم ہے۔ یہ گوند شہد کی طرح میٹھا ہوتا ہے اور پانی میں گھول کر پیا جاتا ہے۔ اس کی بو نا گوار ہوتی ہے۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۲۰۵) ے ہینگ ایک درخت کا بودار گوند جو بطور دوا استعمال ہوتا ہے۔ (اعجاز اللغات۔ زیر لفظ ہینگ) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اے نبی ! تو کیوں حرام کر رہا ہے جسے اللہ نے تیرے لئے حلال قرار دیا ہے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو۔“