صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 489 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 489

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۸۹ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور شَرِبْتُ عَسَلًا۔ ازْوَاجِهِ حَدِيثًا ( التحريم : ٤ ) لِقَوْلِهِ بَلْ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سے آپ کی یہی بات مراد ہے کہ نہیں بلکہ میں نے شہر پیا ہے۔ تُخْبِرِي بِذَلِكِ أَحَدًا۔ وَ قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى عَنْ اور ابراہیم بن ۔ اور ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے نقل کیا۔ انہوں هِشَامٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ وَقَدْ حَلَفْتُ فَلَا نے ہشام بن یوسف) سے روایت کی کہ میں اب اسے پھر کبھی نہیں پیوں گا اور میں نے قسم کھائی ہے اس لئے یہ بات تم کسی کو نہ بتانا۔ أطرافه: ٤٩١٢ ، ٥٢١٦ ، ٥٢٦٧، ٥٢٦٨، ٥٤٣١ ، ٥٥٩٩، ٥٦١٤، ٥٦٨٢، ٦٩٧٢- تشريح : إِذَا حَرَّمَ طَعَامًا : اگر کوئی شخص (اپنے) کھانے کی چیز کو حرام کرے۔ حضرت خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: له رم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بی بی زینب کے گھر میں شہد پیا۔ عائشہ اور حفصہ نے زینب پر غیرت کی اور رسول خدا سے عرض کیا کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بُو آتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ میں نے زینب کے گھر میں شہد پیا ہے ، اب پھر شہد نہ پیوں گا۔ یہ بات اس لئے کہی کہ جب عورتوں کو شہد کی بو سے نفرت ہے تو اس کا پینا کیا ضرور ؟ معاشرت میں نقص آتا ہے۔ باری تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: حلال اشیاء کا ترک کرنا اور اس پر حلف کرنا کیوں۔ ایسے امور میں عورتوں کی رضامندی ضرور نہیں۔ قسم سے بیچ رہنے کے لئے سورہ مائدہ میں کفارے کا حکم ہے، اس پر عمل کرو۔ قَدْ فَرَضَ اللهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ میں فَرَضَ ماضی کا صیغہ ہے حال یا استقبال نہیں۔ یہ زینب کا قصہ اور اس پر آیت کا نازل ہونا بخاری و مسلم وغیرہ حدیث کی اعلیٰ کتابوں میں موجود ہے اور قرآن کی تفسیر یا خود قرآن سے یا لغت عرب سے یا قرآن کی تفسیر صحیح احادیث سے تفسیر کا اعلیٰ درجہ ہے۔ فَرَضَ الله عام حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب پر فرض کر دیا ہے کہ ایسی قسموں پر قائم نہ رہا کریں۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۱۴۸) ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : اور جب نبی نے اپنی بیویوں میں سے کسی سے ! ں سے کسی سے بصیغہ راز ایک بات کہی۔“