صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 487
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۸۷ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور میں ) نکالنا ہی لازم ہو گا۔(عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحه ۲۰۴) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جن کی ایمانی حالت ادنی ہے ان کے لئے یہ معنے ہیں کہ اس قدر صدقہ کرو کہ بعد میں تمہارے ایمان میں تزلزل نہ آئے اور تم دُکھ میں نہ پڑ جاؤ۔دکھ میں پڑنے کے اس جگہ یہ بھی معنے ہیں کہ بعد میں لوگوں سے مانگتا نہ پھرے یا یہ کہ دین اور ایمان کو صدمہ نہ پہنچے۔بعض لوگ کمزور ایمان کے ہوتے ہیں اور جوش میں آکر بہت سا صدقہ کر دیتے ہیں لیکن چونکہ تو کل کا اعلیٰ مقام حاصل نہیں ہوتا، جب تکلیف ہوتی ہے دوستوں سے مانگنا شروع کر دیتے ہیں اور اگر ضرورت پوری نہ ہو تو شکوہ شروع کر دیتے ہیں کہ ہمیں ضرورت ہے تو ہماری امداد نہیں کی جاتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے کل کو اس طرح کرنا ہو اُسے چاہیے کہ آج اتنی امداد کرے جو کل کو اس کے لئے ٹھوکر اور تکلیف کا موجب نہ بنے۔دوسرا گر وہ متوکلین کا ہے ان کے لئے یہ حکم ہے کہ اپنے مال کا بہترین حصہ خدا کی راہ میں دو۔ان لوگوں کا چونکہ ایمان مضبوط ہوتا ہے ان کا حکم دوسرے مومنوں سے الگ ہے لیکن یہ قرآن کریم کا کمال ہے کہ دونوں قسم کے لوگوں کا حکم ایک ہی لفظ میں بیان کر دیا۔“ (تفسیر صغیر، سورة البقرة، حاشیہ آیت يَسْتَلُونَكَ مَا ذَايُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ، نمبر ۲۲۰) بَاب ٢٥ : إِذَا حَرَّمَ طَعَامًا اگر کوئی شخص (اپنے) کھانے کی چیز کو حرام کرے وَقَوْلُهُ تَعَالَى اَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اے نبی ! تم ان چیزوں کو کیوں اَحَلَّ اللهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیں۔وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ قَدْ فَرَضَ اللهُ لَكُم تم اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہو اور اللہ غفور تَحِلَّة أَيْمَانِكُمْ (التحريم :٣،٢) رحیم ہے۔اللہ نے تمہارے لئے فرض کر دیا ہے کہ تم اپنی قسموں کا کفارہ دے کر آزاد ہو جایا کرو۔وَقَوْلُهُ لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَتِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكُمْ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ان پاکیزہ چیزوں کو مت حرام